تذکار مہدی — Page 232
تذکار مهدی ) 232 نامحمودی روایات سیّد نا محمود ہے میں اُس وقت چھوٹا سا تھا میں یہاں آیا اور اپنے رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا حیدر آباد کے ایک رشتہ کے بھائی بھی ہماری رشتے کی اس نانی کے پاس ملنے آئے تھے جن کے پاس حضرت اماں جان ٹھہری ہوئی تھیں انہوں نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ لڑکا کون ہے؟ نانی نے کہا کہ فلاں کا لڑکا ہے یعنی حضرت اماں جان کا نام لیا۔حضرت اماں جان کا نام سین کر وہ مجھے کہنے لگے تمہارے ابا نے کیا شور مچا رکھا ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے خلاف کئی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔اُس وقت میری عمر چھوٹی تھی مگر بجائے اس کے کہ میں گھبراؤں چونکہ مجھے وفات مسیح کی بحث اچھی طرح یاد تھی میں نے وفات مسیح کے متعلق بات شروع کر دی۔میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو صرف یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اس زمانہ میں جو مسیح موعود اور مہدی آنے والا ہے وہ اسی اُمت میں سے آئے گا۔مجھے قرآن کریم کی ان آیات میں سے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے يُعِيسَى اِنّى مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى (آل عمران : 56) والی آیت یاد تھی گو میں نے اس کے متعلق سارے مضمون کو اچھی طرح کھول کر بیان کیا تو وہ حیران ہوکر کہنے لگے واقعی اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں مگر یہ مولوی لوگ کیوں شور مچاتے ہیں۔میں نے کہا یہ بات تو پھر اُن مولویوں ہی سے پوچھئے۔اس پر ہماری نانی نے شور مچا دیا کہ تو بہ کرو تو بہ کرو، اس بچہ کا دماغ پہلے ہی ان باتوں کو سن کر خراب ہوا ہوا تھا تم تصدیق کر کے اسے کفر پر پکا کرتے ہو۔( ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے ، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 453 454 ) تبلیغ کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں جیسا کہ ہم نے دیہاتی مبلغین کی سکیم بتائی ہے اسی طرح ان لوگوں کو جو معمولی نوشت و خواند جانتے ہیں تیار کیا جا سکتا ہے پہلا قدم ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔شروع میں ہی عالموں کا مل جانا مشکل ہے۔پس اگر معمولی لکھے پڑھے ہی مل جائیں تو بھی کام چل سکتا ہے۔لیکن اگر لکھے پڑھے بھی نہ ملیں تو ان پڑھوں کو بھی زبانی باتیں سکھائی جاسکتی ہیں۔بنگہ کے ایک دوست میاں شیر محمد صاحب تھے وہ ان پڑھ آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابہ