تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 862

تذکار مہدی — Page 172

تذکار مهدی ) 172 نامحمودی روایات سیّد نا محمود کے متعلق بتا دیا گیا تھا اور الہام کے پورا کرنے کیلئے ظاہری طور پر جائز کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے مگر مجھے خود مولوی فضل الدین صاحب نے جو لاہور کے ایک وکیل اور اس مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے پیروی کر رہے تھے سنایا کہ جب میں نے ایک سوال کرنا چاہا جس سے مولوی محمد حسین صاحب کی ذلت ہوتی تھی تو آپ نے مجھے اس سوال کے پیش کرنے سے منع کر دیا۔اصل بات یہ ہے کہ مولوی محمد حسین کی والدہ کنچنی تھی اور مقدمات میں گواہوں پر ایسے سوالات کئے جاتے ہیں کہ جن سے ظاہر ہو کہ وہ بے حیثیت آدمی ہے۔مولوی فضل دین صاحب نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ سوالات سنائے جو وہ مولوی محمد حسین پر کرنا چاہتے تھے تو ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تمہاری ماں کون تھی ؟ جسے سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ایسے سوال کو برداشت نہیں کر سکتے۔مولوی فضل دین صاحب نے کہا کہ اس سوال سے آپ کے خلاف مقدمہ کمزور ہو جائے گا اور اگر یہ نہ پوچھا جائے تو آپ کو مشکل پیش آئے گی اس لئے کہ گواہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا لیڈر ہونے کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے اور ضروری ہے کہ ثابت کیا جائے کہ وہ ایسا معزز نہیں مگر آپ نے فرمایا کہ نہیں ہم اس سوال کی اجازت نہیں دے سکتے۔مولوی فضل دین احمدی نہیں تھے بلکہ حنفی تھے اور حنفیوں کے لیڈر تھے، انجمن نعمانیہ وغیرہ کے سرگرم کارکن تھے اس لئے مذہبی لحاظ سے تعصب رکھتے تھے مگر جب کبھی غیر احمدیوں کی مجالس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر کوئی حملہ کیا جاتا تو وہ پر زور تردید کرتے اور کہتے کہ عقائد کا معاملہ الگ ہے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے اخلاق ایسے ہیں کہ ہمارے علماء میں سے کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اخلاق کے لحاظ سے میں نے بھی ایسے ایسے مواقع پر ان کی آزمائش کی ہے کہ کوئی مولوی وہاں نہیں کھڑا ہو سکتا تھا جس مقام پر آپ کھڑے تھے۔اب دیکھو! ادھر گواہ کے ذلیل ہونے کا الہام ہے ادھر اس کی گواہی آپ کو مجرم بناتی ہے مگر جو بات اس کی پوزیشن کو گرانے والی ہے وہ آپ پوچھنے ہی نہیں دیتے لیکن جس خدا نے قبل از وقت مولوی محمد حسین کی ذلت کی خبر آپ کو دی تھی اس نے ایک طرف تو آپ کے اخلاق کو دکھا کر آپ کی عزت قائم کی اور دوسری طرف غیر معمولی سامان پیدا کر کے مولوی صاحب کو بھی ذلیل کرا دیا۔اور یہ اس طرح ہوا کہ وہی ڈپٹی کمشنر جو پہلے سخت مخالف تھا اس نے جونہی آپ کی