تذکار مہدی — Page 170
تذکار مهدی ) 170 روایات سید نا محمود مولوی صاحب اس پر غصہ میں جل بھن کر آگے بڑھے تو کسی شخص نے زمین پر چادر بچھائی ہوئی تھی، اس پر بیٹھ گئے مگر اتفاق کی بات ہے چادر والا بھی جھٹ آ پہنچا اور کہنے لگا میری چادر چھوڑ دو یہ تمہارے بیٹھنے سے پلید ہوتی ہے کیونکہ تم ایک مسلمان کے خلاف عیسائیوں کی طرف سے عدالت میں گواہی دینے آئے ہو۔تو یاد رکھواللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نصرت آتی ہے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا۔پولیس کے افسر اور سپاہی کیا بڑے سے بڑے آدمی کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اور ایک سیکنڈ میں اللہ تعالیٰ ودشمنوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے حضور جھکو اور اس سے دعا ئیں کرو۔ہاں مومنوں کے لئے ابتلاؤں کا آنا بھی مقدر ہوتا ہے۔سو اگر صبر سے کام لو گے اور دعائیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ان ابتلاؤں کو دور کر دے گا۔(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 184 تا186) اللہ تعالی دلوں کا حاکم ہے جب مخالف دیکھتا ہے کہ یہ لوگ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں تو آخر وہ شرمندہ ہو جاتے ہیں۔پس اگر حقیقی فتح چاہتے ہو تو یہ طریق اختیار کرواس کے بعد خواہ کوئی حاکم بھی ہو دراصل تمہارا محکوم ہو گا کیونکہ جب اللہ تعالیٰ دلوں کو بدل دیتا ہے تو حاکم بھی غلاموں کی طرح ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب قتل کا مقدمہ ہوا تو وہی انگریز ڈپٹی کمشنر جس نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اس مدعی مسیحیت کو ابھی تک سزا کیوں نہیں دی گئی، اپنے پاس کرسی بچھا کر آپ کو بٹھاتا، اور ان کے دفتر کے سپرنٹنڈنٹ کا بیان ہے کہ وہ بٹالہ کے اسٹیشن پر ایک دفعہ گھبرا کر ٹہل رہا تھا اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں تو وہ کہنے لگا اس مقدمہ کا مجھ پر اتنا گہرا اثر ہے کہ میں جدھر جاتا ہوں، سوائے مرزا صاحب کے مجھے کوئی اور نظر نہیں آتا اور مرزا صاحب مجھے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ میں مجرم نہیں۔میری سمجھ میں نہیں آتا مقدمہ ان کے خلاف ہے، بیانات ان کے مخالف ہیں اور مجھ پر جو واقعہ گزر رہا ہے اس نے مجھے اس قدر پریشان کر رکھا اور اتنا اثر ڈالا ہوا ہے کہ میں ڈرتا ہوں، کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔آج تک وہ انگریز ڈپٹی کمشنر اس واقعہ کا ذکر کرتا ہے اور ہمارے دوستوں کو جو انگلستان میں مبلغ رہ چکے ہیں اس نے بتایا کہ جب مجھ سے کوئی شخص پوچھتا ہے کہ ہندوستان کی سروس میں کوئی سب سے عجیب واقعہ سناؤ تو میں مرزا صاحب کے مقدمے کا واقعہ ہی بیان کیا کرتا ہوں۔غرض اللہ تعالیٰ