تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 862

تذکار مہدی — Page 169

تذکار مهدی ) 169 روایات سید نا محمود دائر کئے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مخالفین کو اپنے مقاصد میں نامراد رکھا۔ایسے ہی اقدام قتل کے ایک مقدمہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف عدالت میں گواہی دینے کے لئے آیا اور اس امید پر آیا کہ مرزا صاحب کو ہتھکڑی اگر نہ لگی ہوگی تو عدالت میں (نعوذبالله ) ذلیل حالت میں کھڑے ہوں گے مگر باوجود اس کے کہ وہ انگریز ڈپٹی کمشنر جس کے سامنے مقدمہ پیش تھا، ہمارے سلسلہ کا سخت مخالف تھا اور اس نے ضلع میں تعینات ہوتے ہی کہا تھا کہ شخص جو ہمارے یسوع مسیح کی ہتک کرتا ہے اب تک بچاہوا ہے اسے سزا کیوں نہیں دی جاتی مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اس کے سامنے پیش ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ آپ کی شکل دیکھتے ہی اس کا بغض دور ہو گیا اور اس نے اپنے پاس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے بیٹھنے کے لئے کرسی بچھا دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر بیٹھ گئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو آیا ہی اسی لئے تھا کہ آپ کو ذلت کی حالت میں دیکھے، اس نے جب دیکھا کہ آپ کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں تو برداشت نہ کرتے ہوئے اس نے کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر سے سوال کیا کہ مجھے بھی کرسی دی جائے۔اس نے یہ خیال کیا کہ جب مجرم کے لئے کرسی بچھائی جاتی ہے تو گواہ کو کیوں کرسی نہیں ملے گی۔مگر کپتان ڈگلس نے جب یہ بات سنی تو اسے سخت غصہ آیا اور اس نے غضبناک ہو کر کہا تجھے کرسی نہیں ملے گی۔مولوی محمد حسین صاحب نے کہا میرے باپ کو لاٹ صاحب کے دربار میں کرسی ملا کرتی تھی، مجھے بھی کرسی دی جائے۔میں اہلحدیث کا ایڈووکیٹ ہوں اور میرا حق ہے کہ مجھے کرسی ملے۔تب کپتان ڈگلس نے کہا۔بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔اب بجائے اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تذلیل دیکھتا خدا تعالیٰ نے اسے ذلیل کر دیا۔پھر یہ تو کمرہ کے اندر کا واقعہ تھا۔جب مولوی صاحب باہر نکلے تو لوگوں کو یہ دکھانے کے لئے کہ گویا اندر بھی انہیں کرسی ملی ہے، برآمدے میں ایک کرسی پڑی تھی اس پر بیٹھ گئے لیکن چونکہ نوکر وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ اپنے آقا کو کرتے دیکھتے ہیں۔چپڑاسی نے جب دیکھا کہ مولوی صاحب کو اندرتو کرسی نہیں ملی اور اب برآمدے میں کرسی پر آ بیٹھے ہیں۔اسے خیال آیا کہ اگر صاحب بہادر نے دیکھ لیا تو وہ مجھ پر ناراض ہوگا۔وہ دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا آپ کو یہاں پر بیٹھنے کا حق نہیں اٹھ جائیے۔اس طرح باہر کے لوگوں نے بھی دیکھ لیا کہ مولوی صاحب کی عدالت میں کتنی عزت ہوئی۔