تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 862

تذکار مہدی — Page 166

تذکار مهدی ) 166 روایات سید نا محمود انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔اس کے فضل اسے نواز نا شروع کرتے ہیں اور وہ ایمان میں اعلیٰ درجہ حاصل کر لیتا ہے۔لیکن بجائے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر گزار ہونے کے وہ تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور کسی وقت خدا تعالیٰ کی یا اس کے پیاروں اور مقبول بندوں کی کوئی ایسی گستاخی کر بیٹھتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ تمام انعامات سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آجاتا ہے۔گویا یہ اللہ تعالیٰ یا اس کے پیاروں سے لڑائی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ تمام درجات سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو جاتا ہے یا پھر یہ مرض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ غلو کرنے لگ جاتا ہے اور ایسی جگہ انکسار کرنے لگ جاتا ہے جہاں اس کے لئے انکسار جائز نہیں ہوتا۔ایسی حالت میں اس کے اندر تکبر نہیں ہوتا بلکہ انکسار ہوتا ہے اور انکسار بھی جب حد سے بڑھ جائے تو ایک مقام پر جرم بن جاتا ہے۔( خطبات محمود جلد 18 صفحہ 385-386) سچائی پر ثبات قدم بے شک خالص جھوٹ بہت کم لوگ بولتے ہیں جہاں نقصان کا اندیشہ ہو صرف وہاں ایسا جھوٹ بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم نقصان سے بچ جائیں گے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ کامیابی جھوٹ کے نہ بولنے میں ہی ہوتی ہے۔حضرت صاحب کا ہی واقعہ ہے آپ نے ایک پیکٹ میں خط ڈال دیا۔اس کا ڈالنا ڈاکخانہ کے قواعد کی رو سے منع تھا مگر آپ کو اس کا علم نہ تھا۔ڈاکخانہ والوں نے آپ پر نالش کر دی اور اس کی پیروی کے لئے ایک خاص افسر مقرر کیا کہ آپ کو سزا ہو جائے اور اس پر بڑا زور دیا اور کہا کہ ضرور سزاملنی چاہئے تاکہ دوسرے لوگ ہوشیار ہو جائیں۔حضرت صاحب کے وکیل نے آپ کو کہا بات بالکل آسان ہے آپ کا پیکٹ گواہوں کے سامنے تو کھولا نہیں گیا آپ کہہ دیں کہ میں نے خط الگ بھیجا تھا شرارت اور دشمنی سے کہا جاتا ہے کہ پیکٹ میں ڈالا تھا۔حضرت صاحب نے فرمایا یہ تو جھوٹ ہوگا وکیل نے کہا اس کے سوا تو آپ بچ نہیں سکتے۔آپ نے فرمایا خواہ کچھ ہو میں جھوٹ تو نہیں بول سکتا۔چنانچہ عدالت میں جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے پیکٹ میں خط ڈالا تھا؟ تو آپ نے فرمایا۔ہاں میں نے ڈالا تھا مگر مجھے ڈاکخانہ کے اس قاعدہ کا علم نہ