تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 862

تذکار مہدی — Page 110

تذکار مهدی ) 110 روایات سید نا محمود 1903ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں تشریف لائے تو آپ بھی اسی محلہ میں ٹھہرے۔غرض اُس وقت احمدیوں کے ٹھہرنے کی یہی جگہ تھی، مسجد کوئی نہیں تھی۔ہم نماز بھی میاں چراغ الدین صاحب مرحوم کے گھر میں پڑھا کرتے تھے۔ایک بڑا دالان تھا جس میں نماز ہوتی تھی لیکن اس مسجد کے بن جانے کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں سے یہ بات نکل گئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس محلہ میں افراد کے لحاظ سے احمدیوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے اور وہ پرانے لوگ جو فوت ہو چکے ہیں اُن کی نسلیں بھی کثیر ہیں لیکن شہر کی ترقی کے مقابلہ میں افراد کی ترقی کوئی نسبت نہیں رکھتی۔پہلے یہ محلہ بالکل غیر آباد تھا، درمیان میں بڑے بڑے فاصلے تھے اور اس کے پچھواڑے میں بھی بہت بڑا خلا تھا۔جب ہم ان عمارتوں کے پیچھے چلے جاتے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہم جنگل میں نکل گئے ہیں مگر اب تو ہر جگہ ہی آبادی آبادی ہے۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اُس وقت سے لے کر اب تک اس محلہ کی آبادی تھیں چالیس گنے بڑھ گئی ہے۔یعنی اس محلہ میں ہماری جماعت نہیں بڑھی اور اگر بڑھی ہے تو اُس نسبت سے نہیں بڑھی جس نسبت سے محلہ کی آبادی بڑھی ہے۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مامور آتے ہیں وہ صرف نسلی مومن بڑھانے کے لیئے نہیں آتے۔نسلیں تو بڑھا ہی کرتی ہیں۔جب مسلمانوں نے تبلیغ کو بالکل چھوڑ دیا تھا اُس زمانہ میں بھی ان کی اولادوں کا سلسلہ جاری تھا۔در حقیقت اسلام پر تنزل اس لئے نہیں آیا کہ مسلمانوں کے ہاں اولاد پیدا ہوئی بند ہوگئی تھی بلکہ ان پر تنزل اس لئے آیا کہ انہوں نے تبلیغ چھوڑ دی تھی۔اب بھی اگر دوسری جگہ مسجد بن جائے گی تو احمدیوں کو یہاں آکر یہ دیکھنے کا موقع مل سکے گا کہ اس محلہ میں احمدیت کی ترقی کی کیا حالت ہے اور انہوں نے اس کے متعلق کتنی بڑی غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہے۔اب تو جمعہ کے دن آکر وہ غافل ہو جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ یہ مسجد خوب آباد ہے احمدی اس میں بڑی کثرت سے نمازیں پڑھتے ہیں۔انہیں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ اس محلہ میں احمدیت کمزور ہو چکی ہے لیکن دوسری مسجد بننے کے نتیجہ میں جب جمعہ کے دن بھی یہ مسجد ویران نظر آئے گی تو خود بخود یہ چیز ان کے اندر احساس خود داری پیدا کرنے کا موجب ہوگی اور وہ تبلیغ کی طرف توجہ شروع کر دیں گے۔دوسری بات یہ ہے کہ اس ایک مسجد کی وجہ سے اس سارے شہر لاہور کے لیے صرف ایک ہی مبلغ ہے۔میرا اپنا اندازہ یا یوں کہو کہ وہ سکیم جس کے ماتحت تبلیغ کرنا میں مفید سمجھتا ہوں