تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 862

تذکار مہدی — Page 66

تذکار مهدی ) 66 روایات سید نا محمود اور میں جانتا ہوں کہ اس نے محض دکان بنائی ہوئی ہے تم کیوں یہاں اپنا دین خراب کرنے آگئے ہو۔اس پر اس شخص نے مرزا علی شیر صاحب کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور مرزا صاحب نے یہ سمجھ کر کہ یہ شخص ان کی باتوں سے متاثر ہو گیا ہے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔اس شخص نے ان کا ہاتھ بڑی مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو آواز دی کہ جلدی آؤ جلدی آؤ۔جب وہ آ گئے تو ، اس نے کہا میں نے آپ لوگوں کو اس لئے بلایا ہے کہ ہم قرآن کریم میں پڑھا کرتے تھے کہ کوئی شیطان ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتا ہے لیکن ہم نے وہ دیکھا نہیں تھا۔اب وہ شیطان مجھے مل گیا ہے اور اسے میں نے پکڑ رکھا ہے اسے اچھی طرح دیکھ لو۔مرزا علی شیر صاحب بہت گھبرائے لیکن اس شخص نے ان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے رکھا اور کہا ہمیں شیطان دیکھنے کی مدت سے آرزو تھی۔سوالحمد للہ کہ آج ہم نے شیطان دیکھ لیا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق غیر تو کیا اپنے قریبی رشتہ دار بھی یہی کہتے تھے کہ انہوں نے ایک دکان کھولی ہوئی ہے اور وہ آپ کی سخت مخالفت کرتے تھے۔مجھے یاد ہے ہماری سوتیلی والدہ ہم سے بہت محبت کیا کرتی تھیں اور باوجود اس کے کہ ہم ان کی سوکن کی اولاد تھے وہ ہمارے ساتھ بڑی محبت کا سلوک کرتی تھیں ان کی والدہ بھی جو ہماری دادی صاحبہ کے علاقہ کی تھیں ہم سے بہت پیار کرتی تھیں جب ہمارے رشتہ دار مرزا امام دین صاحب اور ان کے لڑکے اور لڑکیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیتے تھے تو چونکہ وہ بہت اونچا سنتی تھیں اس لئے دریافت کرتی تھیں کہ یہ لوگ کس کو گالیاں دے رہے ہیں۔اس پر جب انہیں بتایا جاتا کہ یہ مرزا غلام احمد کو گالیاں دے رہے ہیں تو وہ رو پڑتیں اور کہتیں، ہائے یہ لوگ میری چراغ بی بی کے بیٹے کو گالیاں دیتے ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے رشتہ دار بھی سمجھتے تھے کہ یہ ایک کھیل ہے جو کھیلا جا رہا ہے اور لوگ انہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں لدھیانہ کے ایک نور محمد صاحب تھے جنہیں یہ خیال تھا کہ وہ مصلح موعود ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہتے تھے کہ چونکہ وہ میرے روحانی باپ ہیں اس لیئے جب میں اپنے روحانی باپ کے پاس جاؤں گا۔تو پونڈان کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کروں گا۔اس غرض سے وہ روپیہ جمع کرتے رہتے تھے جب ان کے مرید ان سے سوال کرتے کہ وہ اپنے روحانی باپ کے پاس کب جائیں گے تو انہیں کہتے۔جب میں جاؤں گا تو تمہیں بتا دوں گا جب انہوں نے اس میں زیادہ دیر لگا دی تو