تذکار مہدی — Page 65
تذکار مهدی ) 65 روایات سید نامحمود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس بات کا علم ہوا کہ لنگر خانہ کا خرچ ڈیڑھ سوروپیہ ماہوار تک پہنچ گیا ہے تو آپ بہت گھبرائے کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی۔پھر اللہ تعالیٰ جماعت کی آمد میں دن بدن ترقی عطا کرتا چلا گیا۔صرف میری خلافت کے شروع زمانہ میں سلسلہ پر مالی لحاظ سے ایک نازک دور آیا۔جب میں خلیفہ ہوا تو خزانہ میں صرف آنے تھے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کے چندوں میں ترقی ہوتی چلی گئی اور ہر سال پہلے سال سے زیادہ چندہ جمع ہوتا رہا اور اب بنکوں اور جماعت کے اپنے خزانہ میں جو روپیہ اس وقت جمع ہے۔وہ دس لاکھ سے اوپر ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔خدا تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ تھا کہ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمُ مِنَ السَّمَاء یعنی تیری مدد ایسے لوگ کریں گے جنہیں ہم آسمان سے وحی کریں گے۔سو خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا ہے ورنہ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔یہ چند دن کا کھیل ہے جو ختم ہو جائے گا۔کل ہی ایک شخص مجھے ملنے کے لیے آیا۔جب اس نے اپنا وطن بتایا تو مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ضلع گجرات کے ایک گاؤں چک سکندر کے بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قادیان آیا کرتے تھے۔ان کے بڑے بڑے قد تھے۔اس زمانہ میں ابھی بہشتی مقبرہ نہیں بنا تھا اور لوگ تبرک کے طور پر باغ اور مساجد دیکھنے چلے جایا کرتے تھے۔وہ بھی باغ دیکھنے کے لئے اس سڑک پر جا رہے تھے جو بہشتی مقبرہ کو جاتی ہے۔اس زمانہ میں اس سڑک پر پختہ پل نہیں بنا تھا۔حضرت نانا جان نے لوہے کی ریلیں ڈال کر اس جگہ پار گزرنے کے لئے راستہ بنایا ہوا تھا۔اس پل کے قریب ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی مرزا شیر علی صاحب باغ لگایا کرتے تھے۔وہ مذہبی قسم کے آدمی تھے اور حضرت مسیح موعود کے شدید مخالف تھے۔ممکن ہے ان کی مخالفت کا یہ سبب ہو کہ آپ ان کی بہن پر سوکن لے آئے تھے لیکن بہر حال وہ آپ کے بڑے سخت مخالف تھے انہوں نے چک سکندر کے ان لوگوں کو باغ کی طرف جاتے دیکھا تو انہیں آواز دے کر اپنے پاس بلایا۔ان کے آواز دینے پر ان میں سے ایک آدمی جو باقی ساتھیوں سے کچھ فاصلہ پر تھا یہ سمجھ کر کہ یہ بڑے بزرگ ہیں ان کی بات سُن لی جائے ان کے پاس گیا۔مرزا علی شیر صاحب نے اس سے کہا میاں تم کہاں سے آئے ہو اور کس لئے آئے ہو۔اس شخص نے جواب دیا ہم گجرات سے آئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کرنے آئے ہیں اس پر مرزا علی شیر صاحب نے کہا میاں مرزا غلام احمد میرا بھائی ہے اور اس کا واقف جتنا میں ہوں تم نہیں ہو