تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 862

تذکار مہدی — Page 44

تذکار مهدی ) 44 روایات سید نا محمود نالائق ہے کوئی کام نہ اسے آتا ہے اور نہ وہ کرتا ہے۔مجھے فکر ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ کھائے گا کہاں سے؟ یہاں سے جنوب کی طرف ایک گاؤں ہے، کا ہلواں اس کا نام ہے وہاں کا ایک سکھ مجھ سے اکثر ملنے آیا کرتا تھا اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسی محبت تھی کہ باوجود سکھ ہونے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر پر جا کر سلام کیا کرتا تھا۔دعا کا طریق ان میں نہیں۔خلافت کے ابتدائی ایام میں جبکہ 9- 10 بجے کے قریب ڈاک آیا کرتی تھی اور میں مسجد مبارک میں بیٹھ کر ڈاک دیکھا کرتا تھا ایک دن وہ سکھ اس وقت جبکہ میں ڈاک دیکھ رہا تھا آیا اور مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر سے ہی مجھے دیکھ کر چیخ مار کر کہنے لگا۔آپ کی جماعت نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔مجھے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کے تعلقات کا علم تھا۔میں نے اسے محبت سے بٹھایا اور پوچھا کیا ہوا ہے۔آپ بیان کریں اگر میری جماعت کے کسی شخص نے آپ کو کسی قسم کی تکلیف اور دکھ دیا ہے تو میں اسے سزا دوں گا۔میرے یہ کہنے پر اس نے جو دکھ بتایا وہ یہ تھا کہ میں مرزا صاحب کی قبر پر متھا ٹیکنے کے لئے گیا تھا۔مگر مجھے متھا ٹیکنے نہیں دیا گیا۔میں نے کہا ہمارے ہاں یہ شرک ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔اس نے کہا۔اگر آپ کے مذہب میں یہ بات ناجائز ہے تو آپ نہ کریں مگر میرے مذہب سے آپ کو کیا واسطہ مجھے کیوں نہ متھا ٹیکنے دیا جائے۔جب اس کا جوش ٹھنڈا ہوا تو کہنے لگا۔ہمارا آپ کے خاندان سے پرانا تعلق ہے، میرا باپ بھی آپ کے دادا صاحب کے پاس آیا کرتا تھا۔ایک دفعہ جب وہ آیا تو میں اور میرا ایک بھائی بھی ساتھ تھے۔اس وقت ہم چھوٹی عمر کے تھے، آپ کے دادا صاحب اس وقت افسوس سے میرے باپ کو کہنے لگے۔مجھے بڑا صدمہ ہے، اب میری موت کا وقت قریب ہے، میں اپنے اس لڑکے کو بہت سمجھاتا ہوں کہ کوئی کام کرے، مگر یہ کچھ نہیں کرتا۔کیا میرے مرنے کے بعد یہ اپنے بھائی کے ٹکڑوں پر پڑا رہے گا۔پھر کہنے لگے لڑکے لڑکوں کی باتیں مان لیتے ہیں اور ہم دونوں بھائیوں سے کہا۔تم جاکر اسے سمجھاؤ ، اور پوچھو کہ اس کی مرضی کیا ہے؟ ہم دونوں بھائی گئے۔دوسرے بھائی کو تو میں نے نہیں دیکھا وہ پہلے فوت ہو چکا تھا مگر جس نے یہ بیان کیا وہ مجھ سے ملتا رہتا تھا۔اس نے بتایا ہم آپ کے والد صاحب کے پاس گئے اور جا کر کہا آپ کے باپ کو شکوہ ہے کہ آپ کوئی کام نہیں کرتے۔نہ کوئی -