تذکار مہدی — Page 814
تذکار مهدی ) 814 روایات سید نامحمود نہ ہو اور جو قدر جانتا ہو اس کو تو بغیر ظاہر کئے صبر نہیں آسکتا۔بعض لوگ ایسے لوگوں کو وسیع الحوصلہ کہا کرتے ہیں جو اپنے مذہب کی صداقت کو پیش ہی نہیں کرتے لیکن یہ وسعت حوصلہ نہیں۔کیا کبھی بخیل بھی وسیع حوصلہ رکھتا ہے؟ ہمیشہ سخی ہی وسیع الحوصلہ ہوا کرتا ہے۔پس خدا کی ایک نعمت کا دنیا تک پہنچانا ہی وسعت حوصلہ ہے نہ کہ اسے اپنے پاس چھپائے رکھنا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم تبلیغ اسلام کے فرض کو سمجھیں۔مجھے تو بار بار خیال آتا ہے کہ اگر خدانخواستہ ترقی کا یہی حال رہا تو پھر ہماری تو نسلوں کی نسلیں بھی ان وعدوں کو پورا ہوتا نہیں دیکھیں گی جو حضرت مسیح موعود سے خدا تعالیٰ نے کیئے ہیں۔(خطبات محمود جلد 5 صفحہ 331) مکہ میں بڑے بڑے مالدار لوگ بھی تھے رسول کریم ﷺ خود بے شک کسی بڑی جائیداد کے مالک نہ تھے لیکن حضرت خدیجہ ایک مالدار عورت تھیں۔انہوں نے نکاح کے بعد تمام مال رسول کریم ﷺ کی نذر کر دیا تھا۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مکہ کے بڑے بڑے امراء بھی ایسے ہی ہوں گے جیسے گاؤں کے امراء ہوتے ہیں۔لیکن ان کا یہ خیال غلط ہے۔مکہ میں بڑے بڑے مالدار لوگ بھی تھے۔ان کے مالدار ہونے کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جنگ حنین کے لئے رسول کریم ﷺ نے مکہ کے ایک کا فر رئیس سے تمہیں ہزار درہم قرض لئے اور کئی ہزار نیزہ قرض لیا اور اسی شخص سے کئی سو زر ہیں قرض لیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی لکھ پتی آدمی تھا اور ہمارے اس زمانہ کے لحاظ سے کروڑ پتی تھا کیونکہ اس زمانہ میں روپے پیسے کی بہت قدر تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ مجھے ایک بڑھے سکھ نے سنایا کہ اس نے آٹھ آنے میں گائے خریدی تھی۔اور مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے بچپن کے زمانہ میں مہینہ بھر کی صفائی کی اُجرت خاکروب کو چار یا آٹھ آنہ دی جاتی تھی اور اب ایک بوری ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھوائی جائے تو مزدور اس کی مزدوری آٹھ آنے مانگتے ہیں۔لیکن اُس وقت خاکروب آٹھ آنے خوشی سے لے لیتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ غلہ اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں بہت بہت سستی تھیں۔ایک روپے کا دس پندرہ من غلہ اور چار پانچ سیر گھی آ جاتا تھا۔ایک روپیہ کا ڈیڑھ سیر تو میری ہوش میں بھی تھا۔جب چار پانچ سیر روپے کا گھی سیر ڈیڑھ سیر ہو گیا۔تو