تذکار مہدی — Page 815
تذکار مهدی ) 815 روایات سید نا محمودی لوگوں میں شور مچ گیا کہ گھی کا قحط پڑ گیا ہے۔لیکن اب پانچ روپے سیر پک رہا ہے۔پس آجکل روپے کی قیمت اس وقت کے ایک آنے سے بھی کم ہے۔اس لحاظ سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جس کے پاس اس وقت ایک لاکھ روپیہ تھا آج کے لحاظ سے اُس کے پاس ہیں پچیس لاکھ روپیہ تھا۔حضرت خدیجہ بھی ان لوگوں میں سے تھیں جو کہ مکہ میں مالدار سمجھے جاتے تھے۔آپ نے اپنی تمام جائیداد اور روپیہ رسول کریم ﷺ کو دے دیا تھا۔اس کے علاوہ رسول کریم ﷺ کو کچھ مکان وغیرہ ورثہ میں بھی ملے تھے۔لیکن ہجرت کرنے کی وجہ سے وہ سب آپ کو چھوڑنے پڑے۔جب مکہ فتح ہوا تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کس مکان میں ٹھہریں گے؟ آپ نے جو جواب دیا وہ ایسا دردناک تھا کہ اس کو پڑھ کر انسان کو معلوم ہوسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو کس قدر مالی قربانیاں کرنی پڑیں۔آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ مکہ میں چھوڑی ہے کہ ہم اس میں ٹھہریں؟ ہمارے خیمے وہاں لگاؤ جہاں کفارِ مکہ نے قسمیں کھائی تھیں کہ ہم محمد (رسول اللہ اللہ ) اور اس کے ساتھیوں کو تباہ کر دیں گے۔کتنی بڑی قربانی ہے جو رسول کریم ﷺ نے کی۔ہمارے چندے ان قربانیوں کے مقابل پر کیا حیثیت رکھتے ہیں۔پھر انصار کی قربانیوں کا تصور تو کرو کہ وہ کس قدر شاندار تھیں۔جب صحابہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو رسول کریم ﷺ نے مہاجرین و انصار کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا یعنی ایک ایک انصاری کو ایک ایک مہاجر کا بھائی بنا دیا۔جب رسول کریم ﷺ نے مہاجرین و انصار کو بھائی بھائی بنا دیا تو انصار نے اس بات پر اصرار کیا کہ یا رسول اللہ ! جب مہاجرین ہمارے بھائی بن گئے ہیں اور ان کے پاس گزارے کی کوئی صورت نہیں تو آپ ہماری جائیدا ایں برابر برابر ہم میں بانٹ دیں۔آخر ایک بھائی کو دوسرے بھائی کی جائیداد سے حصہ ملنا چاہئے۔آپ کیوں ہماری جائیداد میں ہمارے درمیان تقسیم نہیں کر دیتے۔کتنا محبت کا جذبہ ہے جو انصار نے مہاجرین کے لئے ظاہر کیا۔خطبات محمود جلد 27 صفحہ 448-447) جماعت کے ابتدائی حالات کسی چیز کو بڑھانا یا گھٹانا اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے اور اس کا قانون یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کو ترقی دینا چاہتا ہے تو اس کے بیج کو بڑھا دیتا ہے۔جب وہ ایک بیج ہوتا