تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 747 of 862

تذکار مہدی — Page 747

تذکار مهدی ) 747 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ عید تو ہے اور ظاہری شریعت کا لحاظ رکھتے ہوئے کہہ دیا چاہے کرو یا نہ کرو یعنی جو یہ سمجھتا ہے کہ شریعت کے ظاہری پہلو کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اس کے لئے اجازت ہے کہ مسئلہ کی ظاہری صورت پر عمل کرے اور عید نہ کرے۔لیکن جو یہ سمجھتا ہے کہ الہام کے ذریعہ جو خبر دی گئی ہے، اس کا لحاظ رکھنا چاہئیے وہ اس دن روزہ نہ رکھے۔یہی بات یہاں روزہ رکھنے کے متعلق ہے۔جس کے دل میں اس بات کا غلبہ ہے کہ یہ سفر ہے ، وہ روزہ نہ رکھے ورنہ اس پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا اور جس کے دل میں اس بات کا غلبہ ہے کہ یہ مبارک دن ہیں اور یہ مبارک مقام ہے، یہاں کیوں نہ رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھاؤں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی اجازت دی ہے تو وہ روزہ رکھے۔ورنہ خطرہ ہے کہ دل کو زنگ نہ لگ جائے۔پس جو دوست یہاں ٹھہر نے کے ایام میں روزے رکھیں گے، ان کے روزے ادا ہو جائیں گے۔یہ نہیں کہ یہاں جو روزے رکھیں گے وہ نفلی روزے ہوں گے، یہ روزے فرضی ہوں گے اور ان دنوں کے روزے بعد میں دوبارہ نہیں رکھنے پڑیں گے۔اہم اور ضروری امور، انوارالعلوم جلد 13 صفحہ 322 تا324) رمضان کو موٹے ہونے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے جب تک خدا کے لئے تکالیف اور مصائب برداشت نہ کرو تم سہولت نہیں اٹھا سکتے۔اس سے ان لوگوں کے خیال کا بھی ابطال ہو جاتا ہے جو بقول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رمضان کو موٹے ہونے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔حضور علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگوں کے لئے تو رمضان ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گھوڑے کے لئے خوید وہ ان دنوں میں خوب گھی ، مٹھائیاں اور مرغن اغذیہ کھاتے ہیں اور اسی طرح موٹے ہو کر نکلتے ہیں جس طرح خوید کے بعد گھوڑا۔یہ چیز بھی رمضان کی برکت کو کم کرنے والی ہے۔ہماری جماعت کے دوستوں نے عام اقرار کیا ہے کہ غذا کو سادہ کر دیں گے اور صرف ایک سالن پر گزارہ کریں گے۔اس میں شک نہیں کہ اس پر عمل میں نے ہر ایک کی مرضی پر چھوڑا ہے اور یہ تحریک اختیاری ہے۔سفر میں روزہ نہیں رکھنا چاہیئے ( خطبات محمود جلد 15 صفحہ 514-513 ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں جبکہ آپ سفر کی