تذکار مہدی — Page 702
تذکار مهدی ) عمل کے وقت نیت رضاء الہی ہو 702 روایات سید نا محمود بے شک حج ایک بڑی نیکی ہے لیکن اگر کوئی شخص محض اس لئے حج پر جاتا ہے کہ اس کا لوگوں میں اعزاز بڑھ جائے یا رسم و رواج کے ماتحت جاتا ہے یا اس لئے جاتا ہے کہ لوگ اسے حاجی کہیں تو وہ اپنا پہلا ایمان بھی مٹا کر آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سُنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سردی کا موسم تھا کسی ریل کے اسٹیشن پر کوئی اندھی بُڑھیا گاڑی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔اس کے پاس کوئی کپڑا بھی نہ تھا سوائے ایک چادر کے جو اس نے پاس رکھی ہوئی تھی۔تا کہ جب گاڑی میں بیٹھنے کے بعد تیز ہوا کی وجہ سے سردی محسوس ہو تو اوڑھ لے۔اُس نے وہ چادر پاس رکھی ہوئی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ اسے ٹول لیتی تھی۔ایک شخص اس کے پاس سے گذرا اور اس نے سوچا کہ یہ تو اندھی ہے اور پھر اندھیرا بھی ہو چکا ہے اس لئے اگر میں یہ چادر اٹھالوں تو نہ اس کو پتہ لگے گا اور نہ پاس کے لوگوں کو پتہ لگے گا۔اس پر اُس نے چپکے سے وہ چادر کھسکا لی۔بڑھیا چونکہ بار بار اُسے بولتی تھی اُسے پتہ لگ گیا کہ کسی نے چادر اٹھالی ہے۔اُس نے جھٹ آواز میں دینی شروع کر دیں کہ اے بھائی حاجی! میری چڈر دے دو۔میں اندھی غریب ہوں اور میرے پاس اور کوئی کپڑا نہیں۔وہ شخص فوراً واپس مڑا اور اس نے چادر تو آہستہ سے اس کے ہاتھ میں پکڑا دی مگر کہنے لگ مائی ! یہ تو بتاؤ تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ میں حاجی ہوں۔وہ بڑھیا کہنے لگی ؟ بیٹا! ایسے کام سوائے حاجیوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔میں اندھی کمزور اور غریب ہوں۔سردی کا موسم ہے اور میں بالکل اکیلی ہوں۔ایسی حالت میں میرا ایک ہی کپڑا چرانے کی کوئی عادی چور بھی جرات نہیں کر سکتا۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه 35) ماں باپ سے حسن سلوک کرنا چاہئیے مومن کو جب اس کے ماں باپ سے اچھا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ مومن خدا تعالیٰ سے جو ماں باپ سے بھی زیادہ محسن ہے اچھا معاملہ نہ کرے اور جب ماں باپ خدا تعالیٰ کے خلاف کوئی بات کہیں تو اُن کی بات کو رد نہ کرے۔بہر حال اس استثناء کے سوا ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔مجھے افسوس ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے نوجوان ایسے