تذکار مہدی — Page 672
تذکار مهدی ) 672 روایات سید نامحمود۔واہمہ ہے جو آپ ہی آپ خیال دوڑاتی ہے اور اس کے اس خیال دوڑانے کے ماتحت مختلف وجود اپنے آپ کو محسوس کرنے لگتے ہیں ورنہ اس کے سوا دنیا میں نہ کوئی سورج ہے، نہ چاند ستارے اور نہ ستارے اور نہ ہی انسان موجود ہے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ آندھی چلتی ہے تو آگے چلتی جاتی ہے اسی طرح ایک وہم سے دور پیدا ہوتا جاتا ہے ایسے لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص کسی بادشاہ کے دربار میں گیا اور کہا کہ یہ دنیا سب وہم ہی وہم ہے۔آپ بھی وہم ہیں۔میں بھی وہم ہوں۔بادشاہت اور حکومت بھی وہم ہے۔بادشاہ اسے بہت عرصہ تک سمجھاتا رہا کہ یہ بات درست نہیں اور اس سے خوب بحث مباحثے ہوتے رہے۔مگر وہ اپنی رائے پر قائم رہا۔بادشاہ نے خیال کیا کہ اسے کسی ایسی آزمائش میں ڈالنا چاہئے کہ اس کا یہ خیال دور ہو۔ایک دن اس نے اپنا در بار اوپر کی منزل میں منعقد کیا اور سب درباریوں اور امراء وغیرہ کو اوپر ہی بلوالیا۔مگر اسے نیچے ہی رہنے دیا۔اس کے بعد جانوروں کے افسروں کو حکم دیا کہ ایک مست ہاتھی لا کر وہاں چھوڑ دیں اور ایک سیڑھی اوپر کی منزل پر آنے کے لئے لگی رہنے دی۔جب ہاتھی آیا اور نظر ماری۔تو اسے وہاں ایک آدمی کھڑا دکھائی دیا اور معاً اس پر حملہ آور ہوا۔وہ شخص ادھر ادھر جان بچانے کے لئے بھاگتا رہا۔مگر جدھر وہ جاتا۔ہاتھی پیچھے جاتا۔آخر وہ گھبرا کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔بادشاہ نے اسے دیکھ کر کہا۔تم گھبرا کر اوپر کیوں چڑھنے لگے یہ تو محض وہم ہے۔ہاتھی بھی وہم ہے اور تم پر اس کے حملہ کا خیال بھی وہم ہے اور جب سب کچھ وہم ہے تو بھاگتے کیوں ہو۔وہ بھی کوئی ہوشیار اور چالاک آدمی تھا۔اس نے فوراً جواب دیا کہ سیڑھیوں پر چڑھ کون رہا ہے۔یہ بھی وہم ہی ہے۔تو اس قسم کے لوگوں کا کوئی علاج دنیا میں نہیں۔یہ در حقیقت مریض ہوتے ہیں اور قوت فیصلہ ان میں نہیں ہوتی۔اس لئے جو بات سنتے ہیں اس کے متعلق آسان طریق یہی نظر آتا ہے کہ کہہ دیں یہ وہم ہے۔ان کی مثال اس کبوتر کی طرح ہوتی ہے۔جو آنکھیں بند کر کے سمجھ لیتا ہے کہ اب بلی اس پر حملہ نہ کر سکے گی۔ہر چیز کا سبب ایک نہیں ہوتا الفضل 18 جون 1941 ء جلد 29 نمبر 135 صفحہ 3 واقعات سے موجبات کو دریافت کرنا کوئی محفوظ طریق نہیں ہوتا۔ہم ایک واقعہ دیکھتے