تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 862

تذکار مہدی — Page 27

تذکار مهدی ) 0 27 روایات سیّد نا محمود ان کے ایک بیٹے وہاں کام کرتے ہیں۔گو ادھر آ جانا ان کے لئے مبارک ہے مگر انہیں لالچ ہے کہ پانچ گاؤں کیسے چھوڑوں۔اگر میں پاکستان آ گیا تو پیچھے گورنمنٹ یہ جائیداد ضبط کر لے گی۔اس لئے وہ وہیں بیٹھے ہوئے ہیں حالانکہ ان کی ماں ایک بڑی مخلص احمدی تھیں اور ان کا باپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا تھا۔غرض تائی صاحبہ کی یہ بہن اعظم آباد میں بیاہی گئی تھیں اور اعظم آباد والے اپنے آپ کو بڑا کیس سمجھتے تھے۔سارا شاہدرہ ان کے پاس تھا۔مرزا اعظم بیگ صاحب جو ان کے بڑے ہیڈ تھے وہ سب سے پہلے ہندوستانی تھے جو سیٹلمنٹ آفیسر بنے اس سے پہلے صرف انگریز ہی اس عہدہ پر پہنچتے تھے۔پھر وہ کابل میں بھی رہے اور وہاں ایمبسی میں ان کو بڑے عہدہ پر رکھا گیا۔بعد میں وہ ہزارہ میں سیٹلمنٹ آفیسر بن گئے۔وہاں انہوں نے اپنی امارت کے گھمنڈ میں بڑے بڑے ظلم بھی کئے۔چنانچہ ایک دفعہ میں کشمیر سے واپس آ رہا تھا تو مولوی سید سرور شاہ صاحب کے جو ہزارہ کے ہی رہنے والے تھے مجھے سنایا کہ جب مرزا صاحب یہاں سیٹلمنٹ آفیسر بن کر آئے تو انہوں نے اپنے غرور میں فلاں رئیس کو کہا کہ تمہارا گھوڑا مجھے بہت پسند آیا ہے۔وہ مجھے بھیج دو اور پھر کہا کہ دیکھنا یہ گھوڑا آج شام تک میرے پاس پہنچ جائے۔مولوی سرور شاہ صاحب نے بتایا کہ وہ رئیس اتنا مالدار تھا کہ سارا علاقہ اس کے پاس تھا مگر جب انہوں نے اس کو حکم دیا تو وہ بھی چونکہ نواب اور رئیس تھا اڑ گیا اور کہنے لگا مرزا صاحب اگر آپ مجھے کسی اور کی معرفت کہلا بھیجتے کہ مجھے گھوڑا دے دو تو ایک نہیں میں دس گھوڑے بھی دے دیتا مگر آپ نے حکم دیا ہے تو اب چاہے آپ میری ساری جائیداد تباہ کر دیں اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں میں گھوڑا نہیں دوں گا۔چنانچہ انہوں نے سیٹلمنٹ میں اس کی تمام جائیداد اس کے رشتہ داروں کے نام لکھ دی اور اس کو تباہ کر دیا۔مولوی صاحب کہنے لگے وہ اب تک غریب چلے آتے ہیں۔حالانکہ پہلے وہ بہت ہی صاحب رسوخ تھے غرض ان کے خاندان میں ہماری وہ پھوپھی بیاہی گئی تھیں اور ہمارے دادا کی ناپسندیدگی کے باوجود بیاہی گئی تھیں مرزا اعظم بیگ صاحب جو اس خاندان کے مورث اعلیٰ تھے انہوں نے ہمارے دادا کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم قادیان دیکھنا چاہتے ہیں وہ چغتائی خاندان کے مغل تھے اور ہم برلاس خاندان کے ہیں اور برلاس چغتائیوں کو ذلیل سمجھتے ہیں پرانے زمانہ میں یہ طریق رائج تھا کہ اگر کوئی کہے کہ ہم آپ کا گاؤں دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم آپ کی لڑکی لینا چاہتے ہیں جب مرزا اعظم بیگ صاحب نے یہ پیغام بھیجا تو ہمارے