تذکار مہدی — Page 26
تذکار مهدی ) 26 روایات سید نامحمودی بتاؤں گا۔چنانچہ ان کے کہنے پر اس نے اس میراثی کی بانہہ پکڑ لی۔اس پر ہمارے دادا صاحب کہنے لگے ہماری پنجابی زبان میں ایک مثال ہے کہ بانہہ پھڑے دی لاج رکھنا کمشنر پھر حیران ہوا اور کہنے لگا مرزا صاحب اس کا کیا مطلب ہے اس پر دادا صاحب نے کہا اس کا یہ مطلب ہے کہ جب آپ نے ایک شخص کا بازو پکڑا ہے تو پھر اس بازو پکڑنے کی لاج بھی رکھنا اور اسے چھوڑنا نہیں۔وہ کہنے لگا مرزا صاحب آپ یہ بتائیں کہ اس سے آپ کا مقصد کیا ہے انہوں نے کہا اس کی 125 ایکٹر زمین تھی جو اسے اس کے کسی عجمان نے دی تھی۔اور حکومت نے اسے ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے ہمارے مغل بادشاہ جب دربار لگایا کرتے تھے تو اس موقعہ پر ہزاروں ایکڑ زمین لوگوں کو بطور انعام دیا کرتے تھے لیکن یہ غریب حیران ہے کہ اس کے پاس جو 125ایکڑ زمین تھی وہ ضبط کر لی گئی ہے۔کمشنر پر اس بات کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے اس وقت اپنے منشی کو بلایا اور کہا یہ بات نوٹ کر لو اور حکم دے دو کہ اس شخص کی زمین ضبط نہ کی جائے۔اب دیکھو دنیا میں جب ایک انسان بھی بانہہ پھڑے دی لاج رکھتا ہے تو خدا تعالیٰ بانہہ پھڑے دی لاج“ کیوں نہیں رکھے گا۔جو خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ اسے کبھی نہیں چھوڑتا۔پس دعا ئیں کرو اور اس گر پر قائم رہو۔جو شخص اس گر پر عمل کرتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ ہمیشہ اپنے دشمن پر غالب رہتا ہے۔( خطبه جمعه فرمودہ 14 دسمبر 1956ء۔الفضل یکم مارچ 1957ء جلد 46/11 نمبر 53 صفحہ 6,5) ابتدائی خاندانی حالات ہماری تائی صاحبہ کے احمدی ہونے میں بڑا دخل مرزا احسن بیگ صاحب کا تھا وہ ان کی بہن کے بیٹے تھے۔ان کی ایک بہن اعظم آباد میں بیاہی ہوئی تھی اور اس کے دو بیٹے تھے۔ایک مرزا اسلم بیگ صاحب اور دوسرے مرزا احسن بیگ صاحب، مرزا احسن بیگ صاحب ہمارے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔سب سے پہلے ان کی میرے ساتھ دوستی ہوئی اور پھر انہوں نے اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت کر لی۔بعد میں ریاست بوندی میں ان کو ہیں ہزار ایکڑ زمین ملی۔چونکہ ریاست آباد نہیں ہوئی تھی۔اس لئے ریاست کے حکام نے بعض لوگوں کو بڑے بڑے علاقے دے دیئے تھے۔کہ ان کو آباد کرو۔آخر میں ریاست نے کچھ زمین واپس لے لی کیونکہ وہ اسے آباد نہ کر سکے۔مگر پھر بھی چار پانچ گاؤں ان کے پاس رہ گئے۔اب