تذکار مہدی — Page 643
تذکار مهدی ) 643 روایات سیّد نا محمود نامحمودی اگر تم اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہوئے اس کی محبت کے جوش میں ایک دفعہ بھی سُبحَانَ الله کہہ لو۔تو وہ تمہیں کہیں کا کہیں پہنچا دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ مجلس میں بیان فرمایا کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کرتے ہیں تو ایک تسبیح سے ہی ہم کہیں کے کہیں جا پہنچتے ہیں۔میں اس مجلس میں موجود نہیں تھا۔ایک نوجوان نے یہ بات سنی تو وہ وہاں سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔خبر نہیں آج حضرت صاحب نے یہ کیا کہا ہے۔وہ صاحب تجربہ نہیں تھا مگر میں اس عمر میں بھی صاحب تجربہ تھا۔حالانکہ میری عمر اس وقت سترہ اٹھارہ سال کی تھی۔میں نے جب اس سے یہ بات سنی تو میں نے کہا ہاں ایسا ہوتا ہے وہ کہنے لگا کس طرح میں نے کہا کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ میں نے اپنی زبان سے ایک دفعہ سُبحَانَ اللہ کہا تو مجھے یوں معلوم ہوا جیسے میری روحانیت اڑ کر کہیں سے کہیں جا پہنچی ہے۔وہ یہ سنتے ہی نہایت تحقیر سے کہنے لگا۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اس نے کبھی سنجیدگی سے سُبحَانَ اللہ کے مضمون پر غور ہی نہیں کیا تھا۔اسے سارا سارا دن سُبحَانَ اللہ کہہ کر کچھ نہیں ملتا تھا۔مگر میں اپنے ذاتی تجربہ کی وجہ سے جانتا تھا کہ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جب میں نے سُبحَانَ اللہ کہا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ پہلے میں اور تھا اور اب میں کچھ اور بن گیا ہوں دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اسی مضمون کو کس عمدگی کے ساتھ بیان کیا ہے۔حالانکہ میں نے اس وقت تک بخاری نہیں پڑھی تھی۔مگر میرا تجربہ صحیح تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ خَفِيفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ۔دو کلے ایسے ہیں کہ رحمن کو بہت پیارے ہیں۔خَفِیفَتَانِ عَلَى اللّسان زبان پر بڑے ہلکے ہیں۔انسان ان الفاظ کو نہایت آسانی کے ساتھ نکال سکتا ہے۔کوئی بوجھ اسے محسوس نہیں ہوتا۔ثَقِيلَتَانِ فِی الْمِيزَانِ۔لیکن قیامت کے دن جب اعمال کے وزن کا سوال آئے گا۔تو وہ بڑے بھاری ثابت ہوں گے اور جس پلڑے میں ہوں گے اسے بالکل جھکا دیں گے۔وہ کیا ہیں۔سُبْحَانَ الله وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِیمِ۔مجھے ان کلمات کے پڑھنے کی بڑی عادت ہے اور میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ایک ایک مرتبہ ہی ان کلمات کو کہنے سے میری روح اڑ کر کہیں کی کہیں جا پہنچتی ہے۔تو اصل چیز یہی ہے کہ ہم سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر غور کریں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔تم صحابہ کبھی خواہش سے نہیں بن سکتے۔تم میرے متعلق خواہ کس قدر سمجھو کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے