تذکار مہدی — Page 640
تذکار مهدی ) 640 روایات سید نا محمودی پھر گن گن کر۔تو اصل ذکر وہی ہے جو ان گنت ہو۔مگر ایک معین وقت مقرر کرنے میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ انسان اس وقت اپنے محبوب کے لئے اور کاموں سے بالکل الگ ہو جاتا ہے اور چونکہ یہ دونوں حالتیں ضروری ہیں اس لئے صحیح طریق یہی ہے کہ معین رنگ میں بھی ذکر الہی کیا جائے اور غیر معین طور پر بھی اُٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے اور اُس کے فضلوں اور ( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحه 309) احسانات کا بار بار ذکر کیا جائے۔تسبیح دل سے نکلتی ہے ” مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کہتے ہیں تو ایک ہی دفعہ کی تسبیح میں ہمیں خدا تعالیٰ کا اس قدر قرب حاصل ہو جاتا ہے کہ دوسرا انسان ہزاروں ہزار دفعہ ویسی تسبیح کر کے بھی اس سے اتنا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔میں اس مجلس میں نہیں تھا۔کسی ہمارے ہم عمر نے یہ بات سن لی۔وہ مجھے ملے تو انہوں نے تعجب سے کہا۔پتہ نہیں اس میں کیا راز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معلوم نہیں کی تسبیح کا ذکر کیا ہے۔اس نے مجھ سے ذکر کیا تو یہ بات فوراً میرے ذہن میں آگئی کہ ایک تسبیح دل سے نکلتی ہے۔اور ایک تسبیح زبان سے نکلتی ہے جب تسبیح زبان سے نکلتی ہے تو ایک دم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کہیں سے کہیں پہنچ گیا ہے اور جو تسبیح زبان سے نکلتی ہے وہ خواہ کوئی انسان ہزاروں دفعہ دہرائے وہ وہیں کا وہیں بیٹھا رہتا ہے۔میں نے اسے کہا میں سمجھ گیا ہوں جو تسبیح دل سے نکلتی ہے۔اس کا اثر فوراً ظاہر ہو جاتا ہے اور جو صرف زبان سے نکلتی ہے اس کا کوئی اثر پیدا نہیں ہوتا۔وہ ہنس پڑے اور کہا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔آپ نے بھی کس طرح ایک اہم بات کو چٹکیوں میں اڑا دیا۔غرض جو چیز سہل الحصول ہو اسے لوگ چھوڑ دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی جنتر منتر مل جائے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے ملنے کے لئے کسی جنتر منتر کی ضرورت نہیں ہوتی۔بلکہ ان فطرتی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر انسان میں پائی جاتی ہیں جس طرح لوگ اپنے ماں باپ اور بیٹے بیٹی اور بھائی بہنوں سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں جس طرح لوگ کسی کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں وہی طریق خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے ہیں تم اپنے ارد گرد دیکھ لو کہ لوگ ایک دوسرے کے کس طرح دوست بنتے ہیں۔(خطبات محمود جلد 32 صفحہ 57)