تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 862

تذکار مہدی — Page 639

تذکار مهدی ) 639 روایات سید نا محمودی اور اسے کھلانا۔اس نے کہا۔دریا سے کس طرح گزروں گی۔انہوں نے کہا دریا پر جا کر کہنا۔اے دریا! فلاں (اپنا نام بتا کر ) آدمی کی خاطر جس نے کبھی اپنی بیوی سے صحبت نہیں کی مجھے راستہ دے دے۔اس نے کہا یہ تو جھوٹ ہے اتنے بچے موجود ہیں اور تم کہتے ہو کبھی صحبت نہیں کی۔انہوں نے کہا تمہیں کیا تم اسی طرح کہہ دینا تمہیں رستہ مل جائے گا اس نے جا کر اسی طرح کہا تھوڑی دیر بعد ایک کشتی آگئی اور وہ سوار ہو کر دریا سے پار ہو گئی کھانا کھلانے کے بعد کہنے لگی میں نے آنے کے وقت تو دعا سیکھ لی تھی اب کیا کروں، کیونکر پار اتروں۔بزرگ نے کہا یہ معمولی بات ہے دریا پر جا کر کہنا۔مجھے اس شخص کی خاطر (اپنا نام بتا کر ) رستہ دے دے جس نے کبھی اپنے منہ میں ایک دانہ بھی نہیں ڈالا (حالانکہ ابھی ابھی اس کے سامنے کھانا کھا چکے تھے ) اس نے کہا یہ جھوٹ ہے۔کہنے لگے تمہیں کیا تم اسی طرح کہنا۔اس نے جا کر کہا کشتی آگئی اور وہ پاراتر گئی۔گھر جا کر اس نے اپنے خاوند سے کہا۔آج دو جھوٹوں کے ذریعہ دعا قبول ہوتی دیکھی ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ نہ ہم نے کبھی نفس کی خاطر صحبت کی اور نہ انہوں نے کبھی نفس کے لئے کھانا کھایا۔ہم نے تعلق رکھا تو اس لئے کہ خدا نے کہا اور انہوں نے کچھ کھایا تو اس لئے کہ خدا نے حکم دیا۔پس نہیں کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فعل نہیں ہوا بلکہ یہ کہ اپنی خواہش اور لذت اس میں نہ تھی تو کامل تو حید اس وقت ہوتی ہے کہ تمام چیزوں سے لذت کھینچ کر ایک ہی لذت باقی رہ جاتی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی چیز میں مزا نہیں آتا۔نمکین چیز نمکین نہیں معلوم ہوتی اور میٹھی چیز میٹھی نہیں لگتی بلکہ یہ ہے کہ انسان ہر ایک چیز اس لئے کھاتا ہے کہ خدا نے حکم دیا ہے مطلب تو دونوں کا حاصل ہو جاتا ہے جو اس نیت سے کھاتا ہے کہ خدا کا حکم ہے وہ بھی لذت حاصل کرتا ہے اور جو اپنے نفس کی خاطر کھاتا ہے وہ بھی مزا پاتا ہے۔ذکر الہی خطبات محمود جلد 8 صفحہ 434-433 ) | حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی بزرگ کا یہ مقولہ سُنایا کرتے تھے کہ دست در کار و دل بایار یعنی انسان کے ہاتھ تو کاموں میں مشغول ہونے چاہئیں لیکن اس کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔اسی طرح ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ اُن سے کسی نے پوچھا کہ میں کتنی دفعہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کروں۔تو انہوں کہا کہ ”محبوب کا نام لینا اور