تذکار مہدی — Page 637
تذکار مهدی ) 637 روایات سید نامحمود خانہ خالی ہے۔اس طرح انہوں نے چاہا کہ وہ ملک اور بادشاہ کے سامنے نیک نام ہو جائیں کہ انہوں نے جنگ کے خلاف مشورہ نہیں دیا بلکہ سب حالات بتا کر سلطان عبدالحمید پر یہ بات چھوڑ دی ہے۔اصل مطلب یہ تھا کہ بعض کمزور پہلو دیکھ کر وہ خود ہی لڑائی نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔سلطان عبدالحمید نے اُن کا مشورہ سن کر جواب دیا کہ سارے کام انسان ہی نہیں کرتا خدا تعالیٰ بھی کچھ کام کرتا ہے۔اگر آپ نے سب خانے پر کر دیئے ہیں اور صرف ایک خانہ خالی ہے تو وہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو اور جنگ لیے تیار ہو جاؤ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت گرے ہوئے زمانہ میں بھی مسلمان تو کل سے خالی نہیں تھے اور یہ واقعہ یونانی جنگ کا ہے اور غالبا یہ اسی سے متعلق ہے۔تو اس میں ترکوں کو اتنی شاندار فتح حاصل ہوئی کہ تمام یورپ حیران رہ گیا اور وہ ترکی حکومت میں دخل دینے سے کترانے لگا۔حقیقت یہی ہے کہ سارے کام بندے نہیں کرتے کچھ کام خدا تعالیٰ بھی کرتا ہے۔ہمارے اور دوسرے مذاہب کے درمیان یہی لڑائی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ زندہ ہے اور وہ انسان کے کاموں میں اُسی طرح دخل دیتا ہے جیسے وہ پہلے دیا کرتا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان کی سب تدابیر نا کام ہو جاتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف رُخ کرتا ہے تو اسے باوجود ظاہری سامان نہ ہونے کے کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔نپولین نے کتنی تیاریاں کی تھیں، قیصر نے کتنی تیاریاں کی تھیں، مسولینی نے کتنی تیاریاں کی تھیں لیکن وہ ناکام ہوئے۔انور پاشا اور اُس کی پارٹی نے کتنی تیاریاں کی تھیں لیکن وہ نا کام ہوئے اور ایک دھتکارا ہوا شخص مصطفی کمال پاشا آگے آ گیا۔بیشک وہ بھی دیندار نہیں تھا لیکن انور پاشا پر یہ الزام تھا کہ اُس نے ایسے بادشاہ کو جس کے زمانہ میں اسلام نے ترقی کی تھی معزول کیا۔مصطفی کمال پاشا کا یہ قصور نہیں تھا۔اُس نے بیشک خلافت کو توڑا لیکن اس نے اس خلافت کو توڑا جس نے پہلے سے قائم شدہ خلافت کو برخواست کیا تھا اور اس کا مقابلہ کیا تھا۔اس لیے وہ باغی سے مقابلہ کرنے والا کہلاتا ہے۔دراصل اس آخری زمانہ میں جو خلافت تھی یہ اصل خلافت نہیں تھی۔اصل خلافت خلفائے راشدین والی خلافت ہی تھی۔سارے مسلمان متفق ہیں کہ خلافت راشدہ حضرت علی پر ختم ہوگئی ہے۔بیشک بعد میں آنے والے بادشاہوں کو بھی خلفاء کہا گیا لیکن وہ خلفائے راشدین نہیں تھے۔وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ اگر بادشاہ کو خلیفہ نہ کہا تو پکڑے جائیں گے۔اس لیے انہوں نے پہلی خلافت کو خلافت راشدہ کا نام دے دیا اور اس طرح بادشاہوں کا منہ بند کر دیا۔