تذکار مہدی — Page 607
تذکار مهدی ) 607 روایات سیّد نا محمود ان کا ہمیشہ ایک ہی کوٹ دیکھا ہے۔دوسرا کوٹ پہنتے ہوئے میں نے ان کو ساری عمر میں نہیں دیکھا۔انہوں نے تہہ بند باندھا ہوا ہوتا تھا اور معمولی سا کرتہ ہوتا تھا۔ان کی بڑی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کرتے رہیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں نذرانہ عقیدت کے طور پر پیش کر دیں۔رفتہ رفتہ وہ اپنی دیانت سے ترقی کرتے چلے گئے اور تحصیلدار ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے کچھ مہینوں یا ایک سال کے بعد وہ قادیان میں آئے اور مجھے اندر کسی نے آکر کہا کہ منشی اروڑہ صاحب دروازہ پر آپ کو ملنے کے لئے آئے ہیں۔میں باہر گیا انہوں نے جلدی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جیب میں سے ( مجھے اچھی طرح یاد نہیں) تین یا چار پونڈ سونے کے نکالے اور نکال کر میرے سامنے کیے۔جونہی انہوں نے پونڈ دینے کے لئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ان پر اتنی رقت طاری ہوئی کہ وہ چیچنیں مار کر رونے لگ گئے اور انہوں نے اس طرح تڑپنا شروع کر دیا جس طرح ذبح کیا ہوا بکرا تڑپتا ہے میری عمر اس وقت چھوٹی تھی انیس سال عمر تھی۔میں انہیں اس حالت میں دیکھ کرگھبرا گیا کہ نا معلوم انہیں کیا ہو گیا ہے۔مگر میں چپکا کھڑا رہا۔وہ روتے رہے، روتے رہے اور روتے رہے کئی منٹ رونے کے بعد جب وہ اپنے نفس کو قابو کر سکے یعنی اتنا قابو کہ ان کے گلے میں سے آواز نکل سکے۔تو نہایت ہی کرب اور اندوہ سے انہوں نے مجھے کہا کہ میری بدقسمتی دیکھو کہ ساری عمر میرے دل میں یہ خواہش رہی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے سونا تحفہ کے طور پر پیش کروں۔مگر اس کی توفیق نہ ملی۔مگر اب جو میں سونا پیش کرنے کے قابل ہوا۔تو وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔یہ کہہ کر ان پر پھر وہی حالت طاری ہوگئی اور ذبح کئے ہوئے بکرے کی طرح تڑپنے لگے اور میں جواب ان کے جذبات سے واقف ہو چکا تھا۔اپنے جذبات کو بصد مشکل دبا کر ان کے سامنے کھڑا رہا۔تو اگر واقعہ میں دنیا کی یہ نعمتیں کوئی نعمتیں ہیں اور اگر واقعہ میں ان سے ہمیں کوئی حقیقی آرام پہنچ سکتا ہے۔تو ایک مومن کا دل ان کو استعمال کرتے وقت ضرور دکھتا ہے کہ اگر یہ نعمتیں ہیں تو پھر یہ اس قابل تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کومتیں اور پھر آپ کے بعد آپ کے ظل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملتیں میں چھوٹا ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مجھے شکار کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک ہوائی