تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 862

تذکار مہدی — Page 565

تذکار مهدی ) با قاعدہ اخبار پڑھا کرتے تھے 565 روایات سید نا محمودی غرض یہ احساسات کا عجیب سلسلہ ہے۔اس پر غور کرنے سے عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے۔ایک بات ایک کے لئے خوشی کی گھڑی اور راحت کی واحد ساعت ہوتی ہے مگر دوسرے کے لئے ماتم کا اثر رکھتی ہے اور بہت ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو نہ کسی کی خوشی میں حصہ ہوتا ہے نہ غم میں۔یہ مضمون مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک فقرے میں سکھایا تھا۔حضرت مسیح موعود با قاعدہ اخبار پڑھا کرتے تھے۔ایک دن 1907ء میں اخبار پڑھتے ہوئے مجھے آواز دی "محمود" یہ آواز اس طرح دی کہ جیسے کوئی جلدی کا کام ہوتا ہے۔جب میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے خبر سنائی۔ایک شخص (جس کا مجھ کو اس وقت نام یاد نہیں ) مر گیا ہے۔اس پر میری ہنسی نکل گئی اور میں نے کہا مجھے اس سے کیا حضرت صاحب نے فرمایا اس کے گھر میں تو ما تم پڑا ہوگا اور تم کہتے ہو مجھے کیا؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ جس کے ساتھ تعلق نہ ہواس کے رنج کا اثر نہیں ہوتا۔( خطبات محمود جلد سوم صفحہ 162) اللہ تعالیٰ کی تصویر کو سامنے لانے کا واحد ذریعہ ذکر الہی خالی رب، مالک، رحمان، رحیم کہنے سے اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوتا جب تک تم ترجمہ کر کے اسے ذہن میں دہراؤ گے نہیں کہ اس کے یہ معنے ہیں۔جب تم انہیں بار بار دہراؤ گے تو وہ دماغ کی فلم پر آجائیں گے اور ایک لفظ بار بار دماغ میں آنے کے بعد تصویر کا ایک حصہ بن جائے گا۔پھر متعدد الفاظ سے خدا تعالیٰ کی ایک تصویر بن جائے گی اور پھر اُس تصویر سے خدا تعالیٰ کا وجود سمجھ لیا جائے گا۔خدا تعالیٰ کی کوئی صفت روحانی ماتھا بنا دے گی ، کوئی صفت روحانی کان بنادے گی ، کوئی صفت روحانی آنکھ بنا دے گی اور اس طرح ایک تصویر بن جائے گی۔بہر حال خدا تعالیٰ کی تصویر روحانی طور پر سامنے آئے گی جس سے تم یہ سمجھو گے کہ خدا تعالیٰ ایک حسین چیز ہے۔اور جب تم یہ سمجھو گے کہ خدا تعالیٰ ایک حسین چیز ہے تو اس کی محبت خود بخود پیدا ہو جائے گی۔اسی چیز کا نام ذکر الہی ہے۔اس کا رواج ہماری جماعت میں نہیں دوسرے لوگوں میں اس کا رواج ہے۔مثلاً پیروں اور فقیروں کی جماعتوں میں اس کا رواج عام طور پر پایا جاتا ہے لیکن انہوں نے اسے ایک کھیل بنادیا ہے۔