تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 862

تذکار مہدی — Page 566

566 تذکار مهدی ) روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک پیر کا واقعہ سنایا کرتے تھے۔وہ پیر شکار کا بہت شوقین تھا۔وہ ایک دن گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کے لیے گیا اور بڑی کوشش کے بعد اس نے ایک ہرن مارا۔جب اس ہرن کو تیر لگا تو وہ تیز دوڑا۔پیر صاحب نے اس کے پیچھے گھوڑا دوڑایا آخر بڑی محنت کے بعد اسے پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔پیر صاحب کو غصہ تھا کہ میرا گھوڑا بہت تھک گیا ہے۔وہ جب ہرن کو ذبح کرنے لگے تو اپنے خیال میں وہ تکبیر کہہ رہے تھے لیکن کہہ یہ رہے تھے سو را! تو نے میرا گھوڑا مار دیتا ، سو را! تو نے میرا گھوڑا مار دیتا۔اس کا نام انہوں نے ذکر الہی رکھ لیا تھا حالانکہ وہ لفظوں میں بھی نہیں ہو رہا تھا لیکن اُن کی تسبیح چلی جا رہی تھی۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ہمارے ماموں مرزا علی شیر صاحب تھے۔وہ ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی تھے۔شاید میاں عزیز احمد صاحب کی دادی کے حقیقی بھائی یا قریبی رشتہ دار تھے۔وہ قادیان میں آنے والوں کو ہمیشہ ورغلاتے رہتے تھے اور کہا کرتے تھے دیکھو! میں مرزا صاحب کا قریبی رشتہ دار ہوں میں بھی انہیں نہیں مانتا۔مرزا صاحب نے دکان بنا رکھی ہے۔صرف دکان۔مرزا علی شیر صاحب تسبیح خوب پھیرا کرتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ منکے پر منکا چلتا تھا۔انہیں باغبانی کا شوق تھا اس لیے انہوں نے ایک باغیچہ لگایا ہوا تھا جس میں وہ سارا دن کام کرتے رہتے تھے۔جہاں آجکل قادیان میں دور الضعفاء ہیں وہاں اُن کا باغیچہ تھا۔درختوں سے انہیں عشق تھا اس لیے جو نہی کسی نے کسی درخت کو چھوا تو انہیں غصہ آیا اور وہ اُس کے پیچھے بھاگ پڑے۔بچے شرارتیں کرتے ہیں۔ہم تو بہت احتیاط کرتے تھے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شدید مخالف تھے لیکن دوسرے بچے انہیں چھیڑا کرتے تھے۔مثلاً کوئی بیدا نہ کا درخت ہے تو بچوں نے پتھر مارنا اور اس طرح بیدا نہ اُتار کر کھانا۔ماموں علی شیر صاحب نے جب بچوں کو پتھر مارتے دیکھنا تو اُن کے پیچھے بھاگنا اور گالیاں دینا سؤر، بد معاش! لیکن تسبیح کے منکے برابر چلتے جاتے تھے۔ہم اُس وقت بھی حیران ہوتے تھے کہ انہوں نے تو تسبیح پر سو دفعہ خدا تعالیٰ کا نام لینا تھا لیکن اس میں سے پچاس دفعہ تو انہوں نے سور اور بدمعاش کہہ دیا ہے۔اب انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ہوا تھا لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ اصل ذکر الہی بھی چھوڑ دیا جائے۔ہمارے ہاں ذکر الہی کا رواج نہیں۔مسجد میں جاؤ تو وہاں آپس میں یہ گفتگو شروع ہوتی ہے کہ سنا ہے آپ نے بھینس خریدی ہے؟ کیسی ہے؟ کتنے کو لی؟ فلاں