تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 862

تذکار مہدی — Page 561

561 روایات سید نا محمودی تذکار مهدی ) سکتی۔پس میں نے اس وقت سمجھا کہ ضرور حضرت مرزا صاحب میں صداقت ہے۔تب میں نے در شین وغیرہ پڑھی اور مجھے معلوم ہو گیا کہ دشمن جو کچھ کہتے ہیں ، غلط ہے۔میں حضور کی بیعت کے لئے قادیان آیا تو اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے بھی شریف الطبع لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔کبھی انگریزوں کے آگے سر نہیں جھکایا خطبات محمود جلد 14 صفحہ 71-70) | میری یہ عادت ہے کہ جب دشمن کی تلوار سر پر لٹک رہی ہو تو اس وقت میں اس کی بات نہیں مانا کرتا اور مجھے افسوس ہے کہ جب کبھی یہاں کے لوگوں نے مجھ سے صلح کرنے کی کوشش کی ہے تو ہمیشہ ایسی ہی صورت میں کہ پہلے کوئی ہم پر مقدمہ کر دیا یا فساد کھڑا کرا دیا اور پھر چاہا کہ ہم سے سمجھوتہ کر لیں حالانکہ میں ایسے مواقع پر سمجھوتہ نہیں کیا کرتا میں ہمیشہ ایسے موقع پر ہی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار ہوا کرتا ہوں جب میرا ہاتھ دینے والا ہو اور ان کا ہاتھ لینے والا لیکن جب کوئی ڈنڈا لے کر میرے سر پر آچڑھے اور کہے کہ مجھ سے صلح کر لو تو پھر میں اس کی بات نہیں مانا کرتا۔مجھے تعجب آتا ہے کہ میری عمر پچاس سال کے قریب ہونے کو آ گئی ، صرف چند ماہ اس میں باقی ہیں اور میں تمام عمر اسی قادیان میں رہا ، یہیں پیدا ہوا، یہیں بڑھا، یہیں جوان ہوا اور یہیں پچاس سال کی عمر تک پہنچا مگر اب تک یہاں کے ہندوؤں اور سکھوں نے میری طبیعت کو نہیں سمجھا۔میری طبیعت یہ ہے اور یہی طبیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی تھی بلکہ دینی لحاظ سے گو حالت کچھ ہی ہو یہی طبیعت ہمارے دادا صاحب کی بھی تھی کہ وہ کسی سے دب کر صلح نہیں کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے خاندان نے دوحکومتوں کے تغیر کے وقت سخت نقصان اٹھایا ہے۔جب سکھ آئے تب بھی اور جب انگریز آئے تب بھی کیونکہ یہ ہماری طبیعت کے خلاف ہے کہ ہم کسی کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہوں اسی لئے جب سکھ آئے تو نہ سکھوں کے آگے ہم جی حضور کرتے رہے اور نہ جب انگریز آئے تو انگریزوں کے آگے ہم نے جی حضور کیا۔گو ہمارے خاندان نے سکھوں اور انگریزوں دونوں سے تعاون بھی کیا اور ان کی مدد بھی کی اور ان لوگوں سے زیادہ مدد کی جو جی حضور کرتے رہتے تھے مگر پھر بھی وہ کبھی انگریزوں کے آگے گردن جھکا کر کھڑے نہیں ہوئے۔یہ ایک خاندانی اثر ہے جو میرے اندر پایا جاتا ہے