تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 862

تذکار مہدی — Page 552

تذکار مهدی ) 552 روایات سید نا محمود ) معرفت پہلی رات کا چاند ہے اور دنیوی علوم بعد کی راتوں کے۔اگر ہم خدا کی باتیں سیکھ سکتے ہیں تو دنیوی علوم کیوں نہیں سیکھ سکتے ضرور سیکھ سکتے ہیں مگر مشکل یہی ہے کہ آنکھیں کھول کر دیکھتے نہیں ہمارے اندر یہ احساس ہونا چاہئیے کہ ہر میدان میں دوسروں سے آگے نکل جائیں۔خطبات محمود جلد 13 صفحه 65-64 ) | خدا اور بندے کے کلام میں فرق آج کل یہ کمال خیال کیا جاتا ہے کہ جب کوئی بات کر رہا ہو تو فوراً درمیان میں بول پڑیں جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ ہم خوب سمجھتے ہیں اور گویا ان لوگوں کی علمیت ظاہر ہوتی ہے مباحثوں اور مناظروں میں علماء ایسا کرتے ہیں اس سے غرض مخالف پر رعب ڈالنا ہوتی ہے لیکن ہر جگہ یہ بات درست نہیں ہوتی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا ایک الہام سنا کر کہنے لگے کہ خدا اور بندے کے کلام میں کیا فرق ہوتا ہے اور اس کے لئے آپ نے ایک حریری کا فقرہ پڑھا ایک صاحب فوراً درمیان میں بول پڑے اور انہوں نے پہلی بات پر تو غور نہ کیا اور اس فقرے کو الہام سمجھ کر کہنے لگے واقعی کیسی عمدہ عبارت ہے اور کیا فصاحت و بلاغت ہے لیکن جب حضرت صاحب نے فرمایا۔آپ نہیں تو سہی اور پھر آپ نے اس میں نقص بتلائے اور الہام کی اس پر فضیلت ثابت کی۔غرض یہ طریق ہو گیا ہے کہ پورا کلام سنے بغیر لوگ نتیجہ نکالتے ہیں۔( خطبات محمود جلد 6 صفحہ 526) اشتعال انگیزی سے بچنا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ طاعون طعن سے نکلا ہے اور طعن کے معنی نیزہ مارنا ہیں۔پس وہی خدا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت آپ کے دشمنوں کے متعلق قہری جلوہ دکھایا، وہی اب بھی موجود ہے اور اب بھی ضرور اپنی طاقتوں کا جلوہ دکھائے گا اور ہرگز خاموش نہ رہے گا۔ہاں ! ہم خاموش رہیں گے اور جماعت کو نصیحت کریں گے کہ اپنے نفسوں کو قابو میں رکھیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ ایک ایسی جماعت بھی دنیا میں ہو سکتی ہے جو تمام قسم کی اشتعال انگیزیوں کو دیکھ اور سن کر امن پسند رہتی ہے۔حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات ، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 512-511)