تذکار مہدی — Page 538
تذکار مهدی ) 538 روایات سید نا محمود میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں آپ کے لباس میں یہ نقص ہے وہ نقص ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ مجھے تو اس بات کا احساس بھی نہیں۔آپ کو معلوم نہیں کہ اس کا کیوں خیال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہم نے دیکھا ہے گو مخالف اس پر ہنسی اڑاتے اور یہ کہتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ پاگل تھے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ آپ کئی دفعہ بوٹ ٹیڑھا پہن لیتے۔دایاں بوٹ بائیں پاؤں میں اور بایاں بوٹ دائیں پاؤں میں۔وہ نادان نہیں جاتے کہ جس کا دماغ اور باتوں کی طرف شدت سے لگا ہوا ہو۔اسے ان معمولی باتوں کی طرف توجہ کی فرصت ہی کب مل سکتی ہے۔اسی طرح کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ بٹن اوپر نیچے لگا لیتے۔یعنی اوپر کا بٹن نچلے بٹن کے کاج میں اور نیچے کا بٹن اوپر کے بٹن کے کاج میں لگا دیتے۔میرا بھی یہی حال ہے کہ دوسرے تیسرے دن بٹن اوپر نیچے ہو جاتے ہیں اور کوئی دوسرا بتا تا ہے تو درستی ہوتی ہے۔گو بوٹ کے متعلق اب تک میرے ساتھ ایسا کبھی کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ بایاں بوٹ میں نے دائیں پاؤں میں پہن لیا ہو اور دایاں بوٹ بائیں پاؤں میں اور اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ میرے پاؤں پر بھنوری ہے اور ڈاکٹر نے مجھے بچپن سے ہی بوٹ پہنے کی ہدایت کی ہوئی ہے اور چونکہ بچپن سے ہی مجھے بوٹ پہننے کی عادت ہے۔اس لئے ایسا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تو اکثر ایسا ہوا کہ چلتے چلتے آپ کو ٹھوک لگتی اور کوئی دوسرا دوست بتاتا کہ حضور نے گر گابی الٹی پہنی ہوئی ہے اور آخر آپ نے انگریزی جوتی پہنی بالکل ترک کر دی۔تو انسانی دماغ جب ایک طرف سے فارغ ہو تبھی دوسرا کام کر سکتا ہے۔اگر ہم اپنے دماغ کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف لگا دیں تو اسلام کی ترقی کے کام ہم کب کر سکیں گے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے کھانے اور لباس میں انسان کو سادگی کا حکم دیا ہے۔تا کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کی بجائے اہم امور کی طرف توجہ کرے۔لباس کی نہیں خوبیوں کی عزت ( الفضل 11 فروری 1938 ء جلد 26 نمبر 35 صفحہ 5) پچھلے سال شملہ میں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔بعض لوگ جسم کو اکڑائے اور سر کو اٹھائے چلتے ہوئے نہایت بھونڈے معلوم ہوتے تھے۔یورپین لباس سے عزت نہیں بلکہ ان کی خوبیوں کو حاصل کرنے میں عزت ہے۔ان