تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 862

تذکار مہدی — Page 536

تذکار مهدی ) 536 روایات سید نا محمود علیہ السلام سے اخلاص رکھتا تھا حضرت صاحب کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں۔حضرت صاحب نے اسے کہلا بھیجا کہ جہاں تم کالج میں بیٹھتے ہو اس جگہ کو بدل لو۔چنانچہ اس نے جگہ بدل لی اور پھر بتا یا کہ اب کوئی شک نہیں پیدا ہوتا جب یہ بات حضرت صاحب کو سنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس پر ایک شخص کا اثر پڑ رہا تھا جو اس کے پاس بیٹھتا تھا اور وہ دہر یہ تھا۔جب جگہ بدل لی تو اس کا اثر پڑنا بند ہو گیا اور شکوک بھی نہ رہے تو بُرے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بھی بلا اس کے کہ وہ کوئی لفظ کہے اثر پڑتا ہے اور اچھے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بلا اس کے کہ وہ کچھ کہے اچھا اثر پڑتا ہے۔پس دنیا میں خیالات ایک دوسرے پر اثر کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کا پتہ نہیں لگتا۔بچوں کو پگڑی پہننے کی تلقین ملائکۃ اللہ۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 537 ) ایک شادی کے موقعہ پر ایک دفعہ مجھے لاہور جانا پڑا جو لوگ شادی میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے ان میں لاہور کے ایک مشہور اخبار کے ایڈیٹر بھی تھے۔۔کہنے لگے ہمیں آسٹریا کے مال کا بائیکاٹ کرنا چاہئیے اور اس کی کوئی چیز نہ خریدنی چاہئیے۔میں اس وقت ٹوپی پہنے ہوئے تھا جو کہ اتفاقاً اٹلی کی بنی ہوئی تھی۔وہ ایڈیٹر صاحب کہنے لگے کہ آسٹریا کی بنی ہوئی ٹوپیاں ہمیں نہیں پہنی چاہئے۔میں نے کہا کہ میں تو اس خیال میں آپ سے متفق نہیں لیکن میری یہ ٹوپی تو اٹلی کی بنی ہوئی ہے۔جس وقت کا یہ ذکر ہے اس وقت میں ٹوپی پہنا کرتا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹوپی کو پسند نہیں فرمایا کرتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن میں نے ٹوپی پہنی تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔ہیں ! تم نے عید کے دن بھی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔میں نے اسی وقت جا کر ٹوپی اتار دی اور پگڑی باندھ لی ( اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے بالکل ٹوپی کا استعمال ترک کر دیا ) ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ نہیں ہمیں لڑکی کی مخالف سلطنتوں کی چیزوں کا ضرور بائیکاٹ کر دینا چاہئے میں نے کہا ہم ایک بائیکاٹ سے فارغ ہو لیں تو پھر اور کسی کا بھی بائیکاٹ کر لیں گے اس نے کہا آپ کس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔میں نے کہا شیطان کا سارے ملکوں پر شیطان کی حکومت ہے اور یہ ہمارے حقوق دن بدن دبائے جا رہا ہے