تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 862

تذکار مہدی — Page 526

تذکار مهدی ) 526 روایات سید نا محمود تیس فیصدی پھر بھی بچ گئے۔پس اس قسم کے عذاب انبیاء کی موجودگی میں بلکہ ان کے سامنے بھی آ سکتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ یہ فرق نہیں کرتا کہ نبی موجود ہے یا نہیں۔ہاں نبیوں اور ان کی جماعت کو دشمنوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ رکھتا ہے جیسے زلزلہ آیا تو خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کے نتیجہ سے بہت حد تک محفوظ رکھا لیکن لاہور اور امرتسر میں بڑی موتیں ہوئیں۔سینکڑوں عمارتیں گرگئیں اور سینکڑوں لوگ مر گئے مگر قادیان کو خدا تعالیٰ نے اس قسم کی تباہی سے محفوظ رکھا۔تو آگے پیچھے زلزلے آئے۔ارد گرد زلزلے آئے حتی کہ قادیان میں بھی زلزلہ آیا مگر بہت حد تک یہ مقام محفوظ رہا۔اسی طرح طاعون کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں تھا کہ قادیان اس کے حملہ سے بالکل محفوظ رہے گا بلکہ یہ تھا کہ بہت حد تک اسکے حملہ سے احمدی محفوظ رہیں گے اور بہت حد تک اس کے حملہ سے قادیان بچا رہے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اردگرد کے دیہات میں طاعون سے بڑی موتیں ہوئیں۔کسی گاؤں کے چالیس لوگ مر گئے کسی کے پچاس۔حتی کہ میں نے بتایا ہے ایک گاؤں بالکل اُجڑ گیا لیکن قادیان میں اس کا ایسا حملہ نہیں ہوا کہ ایک شور مچ جائے اور لوگ گھبرا کر بھاگنے لگ جائیں۔زیادہ سے زیادہ یہاں ایک یا دو فیصدی موتیں ہوئیں۔(خطبات محمود جلد 20 صفحہ 472 ) طاعون نے تباہی پھیلا دی تو پھر مجھ پر ایمان کون لائے گا ہمارا یہی اصول ہونا چاہئے کہ ہم کسی کے لئے بددعا نہ کریں۔بلکہ ہمیں اپنے مخالفین کے لئے دعا کرنی چاہئے۔آخر انہوں نے ہی ایمان لانا ہے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں چوبارہ میں رہتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مکان کے نچلے حصے میں تھے کہ ایک رات نچلے حصہ سے مجھے اس طرح رونے کی آواز آئی جیسے کوئی عورت درد زہ کی وجہ سے چلاتی۔مجھے تعجب ہوا اور میں نے کان لگا کر آواز کو سنا۔تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کر رہے ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اے خدا طاعون پڑی ہوئی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے مر رہے ہیں۔اے خدا اگر یہ سب لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔اب دیکھو طاعون وہ نشان تھا جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔طاعون کے نشان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں سے بھی پتہ لگتا ہے۔لیکن