تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 862

تذکار مہدی — Page 14

تذکار مهدی ) 14 روایات سید نا محمودی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ابتدائی حالات آپ کے شیر ہونے کی علامت روزانہ الفضل میں شائع ہوتی ہے کہ آج اتنے احمدی ہوئے آج اتنے ہوئے۔دنیا میں کوئی ایسا شیر نہیں جو تین چارسو سے زیادہ شکار سال میں کرسکتا ہو مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہر سال چار پانچ سو آدمیوں کو ان لوگوں سے چھین لیتے ہیں اور ایسے وقت میں لاتے ہیں جب آپ فوت ہو چکے ہیں۔ہم تو ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتے اور ہمیں یقین ہے کہ خودان میں سے شریف طبقہ بھی اس کی تردید کرے گا۔انہیں خود سوچنا چاہئیے کہ اگر ان گالیوں کا دسواں حصہ بھی ان کے گروؤں کے متعلق استعمال کیا جائے تو ان کی کیا حالت ہوگی۔ان کو غصہ آئے گا یا نہیں؟ اگر وہ اپنے بزرگوں کی عزت کرانا چاہتے ہیں تو ان کو چاہئے کہ دوسروں کے بزرگوں کی بھی عزت کریں۔بعض تقریروں میں کہا گیا ہے کہ ہمارا خاندان اس علاقہ کا قاضی تھا اور مہا راجہ رنجیت سنگھ صاحب نے ہمارے دادا کو جائیداد دی تھی۔ممکن ہے یہ کہنے والا باہر سے آیا ہو۔مگر اس علاقہ کے بڑے بوڑھوں سے دریافت کرو کہ ہمارا خاندان قاضی تھا یا حاکم۔اگر ہمارے بزرگ ملوانے تھے تو کیا سکھوں کی چار مسلیں اکٹھی ہو کر ملانوں سے مقابلہ کے لئے آئی تھیں۔سکھوں کی کل مسلیں پندرہ سولہ تھیں جن میں سے چار نے مل کر قادیان پر حملہ کیا تھا اور اب بھی بسراواں میں قلعوں وغیرہ کے نشانات ہیں جن پر تو ہیں وغیرہ نصب کی گئیں تھیں۔کیا یہ چار پانچ مسلیں مل کر کسی مسجد کے امام یا ملا سے مقابلے کے لئے آئی تھیں۔ہمارا خاندان خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے اس علاقہ کا حاکم تھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کا زمانہ تو بعد کا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ہتک کی ہے۔مگر یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔میں نے سکھ تاریخ پوری طرح نہیں پڑھی۔مگر میرے دل میں مہاراجہ صاحب کی عزت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ان کی تعریف سنی ہے۔جن سکھوں کے خلاف آپ نے لکھا ہے وہ طوائف الملو کی کے زمانہ کے تھے اور ایسے زمانہ کو ہر قوم بُرا کہتی ہے اور خود سکھ بھی بُرا سمجھتے ہیں۔مگر جب مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب نے ایک منظم حکومت قائم کر لی تو اس زمانہ کی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعریف ہی سنی ہے اور اسی وجہ سے میرے دل میں ان کی عزت