تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 862

تذکار مہدی — Page 511

تذکار مهدی ) 511 روایات سید نامحمود لچک پیدا کرنے کے لیے ہے وگرنہ جب تک افراد جماعت تبلیغ نہ کریں، جب تک وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے اوقات دین کے لیے وقف ہیں، جب تک جماعت کا ہر فر دسر کو تھیلی پر رکھ کر دین کے لیے میدان میں نہ آئے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے علیحدہ کیا ہے تو اس کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اس کے بھائیوں کی تلوار اس کے خلاف اُٹھے گی اور اس کی تلوار ان کے خلاف۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی ہوگا کیونکہ نبی کے خلاف ہی ساری دنیا کی تلوار میں اٹھتی ہیں۔پس جب تک کوئی شخص ساری دنیا کی تلواروں کے سامنے اپنا سر نہیں رکھ دیتا اس وقت تک اس کا یہ خیال کرنا کہ وہ اس مامور کی بیعت میں شامل ہے فریب اور دھوکا ہے جو وہ اپنی جان کو بھی اور دنیا کو بھی دے رہا ہے۔ہماری جماعت کے زمیندار اور ملازم اور تاجر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہوئے اور چند مبلغ ملازم رکھ کر کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ وہ خدا کی جماعت ہیں حالانکہ یہ حالت خدا کی جماعتوں والی نہیں اس صورت میں ہم زیادہ سے زیادہ ایک انجمن کہلا سکتے ہیں۔خدائی جماعت وہی ہے جس کا ہر فرد اپنے آپ کو قربانی کا بکرا بنا دے اور جس کا ہراک ممبر موت قبول کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔یاد رکھو جو جماعت مرنے کیلئے تیار ہو جائے اسے کوئی نہیں مار سکتا اور نہ اس کے مقابلہ پر کوئی ٹھہر سکتا ہے۔(خطبات محمود جلد 16 صفحہ 6) وقف زندگی قربانی کا تقاضا کرتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جب وقف زندگی کا اعلان کیا تو گو وقف زندگی کی شرائط آپ نے خود نہیں لکھیں بلکہ میر حامد شاہ صاحب سے لکھوائیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اِن کو دیکھا اور کچھ اصلاح کے ساتھ پسند فرمایا۔مجھے خوب یاد ہے ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ میں کوئی معاوضہ نہیں لوں گا چاہے مجھے درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑے میں گزارہ کروں گا اور تبلیغ کروں گا۔یہی وہ طریق ہے جس سے صحیح طور پر تبلیغ ہوسکتی ہے۔جب ہم اعداد و شمار سے کام لینے لگتے ہیں تو اخراجات کا اندازہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا کہ یہ اخراجات کس طرح پورے ہو