تذکار مہدی — Page 512
تذکار مهدی ) 512 روایات سید نا محمودی سکیں گے۔پس اصل تبلیغ ہم اسی طرح کر سکتے ہیں اس کے بغیر اگر ہم تبلیغ کرنا چاہیں تو مجھے اس میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔چونکہ بہت سے دوستوں نے میرے اعلان پر اپنی زندگیوں کو سلسلہ کے لئے وقف کیا ہے اس لئے میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ قربانی کا ارادہ اور عزم اپنے اندر پیدا کریں ورنہ سلسلہ کبھی کامیاب تبلیغ نہیں کر سکتا۔اگر ایسے مبلغ آئیں جو بغیر کسی معاوضہ کے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں تو ہمیں ان کے متعلق کوئی فکر نہیں ہو گا۔مگر آب تو لوگ اُدھر زندگی وقف کرتے ہیں اور ادھر ہمیں فکر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ ہمارے پاس اتنا روپیہ بھی ہے یا نہیں کہ ہم ان کا وقف قبول کریں۔لیکن اگر وہ ہم سے معاوضہ لئے بغیر نکل جائیں، سادہ لباس پہنیں اور سادہ خوراک استعمال کریں، اخلاص اور تقویٰ سے کام لیں تو نہ سلسلہ پر بار پڑ سکتا ہے اور نہ ان کو کوئی خاص پریشانی لاحق ہوسکتی ہے کیونکہ جب وہ اخلاص سے کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ اِن کے کام میں برکت ڈال دے گا اور ان کے اردگرد ایک جماعت پیدا کر دے گا۔پھر وہ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ کسی موزوں مقام کا انتخاب کر کے وہاں بیٹھ جائیں اور لوگوں کو درس دینا شروع کر دیں۔( زندگی وقف کرنے کی تحریک۔انوارالعلوم جلد 17 صفحہ 298-297) حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کا وقف کرنا سب سے پہلے ہمارے خاندان میں عزیزم مرزا ناصر احمد نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا اور اس وقت تک اس نے اپنے وقف کو نباہا ہے۔اب دوسرے نمبر پر عزیزم عباس احمد نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کیا ہے اور اس عزم اور ارادہ کے ساتھ باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے کہ وہ اپنی زندگی دین کی خدمت میں لگائے گا۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے بعد ہمارے خاندان میں سے کس کس کو ایسے رنگ میں وقف کرنے کی توفیق ملے کہ ان کا وقف سلسلہ کے لئے فائدہ مند ہو اور جس کے حالات وقف کے مطابق ہوں تا وہ خود اپنے لئے اور جماعت کے لئے بھی ٹھوکر کا موجب نہ بن جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج سے ساٹھ ستر سال پہلے یہ الہام شائع فرمایا تھا تری نَسُلًا بَعِيدًا اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نشان کو ایسے رنگ میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں کہ روز بروز اس نشان کی اہمیت اور عظمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔بعض نشان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جس وقت وہ شائع کئے جاتے ہیں تو بڑے ہوتے ہیں اور ان کی عظمت زیادہ