تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 862

تذکار مہدی — Page 508

تذکار مهدی ) 508 روایات سید نا محمود بعض اوقات شکست زیادہ بہتر ہوتی ہے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔چونکہ آپ نے خالصہ خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار اور تذلل اختیار کیا اس لئے اس محسنِ مطلق نے نہ چاہا کہ آپ کے اس فعل کو بغیر اجر کے چھوڑے۔تو بعض اوقات شکست زیادہ بہتر ہوتی ہے۔اس فتح سے جس میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی نہ ہو۔یہ بات میں نے پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب پھر اسے دہرا دیتا ہوں کہ غیر مبائعین کے مقابلہ پر ایسے ذرائع اختیار کرو۔جو خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کا موجب ہوں۔میں نے بار بار سخت کلامی سے روکا ہے۔مجھے سخت کلامی کبھی پسند نہیں۔خواہ وہ میرے شدید سے شدید مخالف کے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔بے شک بعض حقائق کے بیان کرنے میں بعض سخت الفاظ کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو دوسرے کے لئے ناگوار ہوتے ہیں۔مگر ان کے بیان میں بھی جہاں تک ممکن ہو سخت الفاظ سے بچنا چاہئے اور ایسے رنگ میں بات کو بیان نہ کیا جائے کہ دوسرا سمجھے کہ اس کے دل میں غصہ اور بغض ہے۔جو یہ نکال رہا ہے ایک ہی بات کو سخت الفاظ میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور اسی کو نرم الفاظ میں بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔لاہور میں ایک خاندان فقیروں کا مشہور ہے۔ہمارے خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات پرانے چلے آتے ہیں ہمارے بڑے بھائی خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم اور اس خاندان کے آخری رئیس بھائی بھائی بنے ہوئے تھے۔ان کے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وزیر تھے اور وہ بہت بلند پایہ طبیب تھے اور اس وجہ سے بہت اثر رکھتے تھے۔گواس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اچھی نہ تھی۔مگر انہیں طب کی وجہ سے اور ذاتی قابلیت کے باعث بہت رسوخ حاصل تھا۔مسلمانوں کو اس زمانہ میں چونکہ مصائب کا شکار ہونا پڑتا تھا۔اس لئے جس کسی کو کوئی مصیبت پیش آتی۔ان کے پاس امداد کے لئے پہنچ جاتا تھا اور آپ ہر ایک کی کچھ نہ کچھ مدد کر دیتے اور جو تھوڑی بہت رقم ممکن ہوتی دے دیتے۔اس زمانہ میں پیسہ کی بہت قیمت تھی۔روپیہ کا دس دس من غلہ مانتا تھا۔ایک دفعہ ان کے پاس کوئی محتاج آیا۔وہ بیٹھے کام کر رہے تھے اور اپنے نوکر سے کہہ دیا کہ میاں اسے آٹھ آنہ کے پیسے دے دو۔نوکر نے دیئے تو اس نے شور مچا دیا کہ اتنے بڑے آدمی ہو کر آپ مجھے صرف آٹھ