تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 862

تذکار مہدی — Page 507

تذکار مهدی ) 507 روایات سید نا محمود قرعہ ڈالا گیا اور تینوں دفعہ میرے نام آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی نکلی میاں بشیر احمد صاحب کے نام غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِی رَحْمَتِي وَ قُدْرَتِی والی انگوٹھی نکلی اور میاں شریف احمد صاحب کے حصہ میں وہ انگوٹھی آئی جس پر مولا بس لکھا ہوا تھا۔میں نے نیت کی ہوئی تھی کہ میں آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی جماعت کو دے دوں لیکن میں اس وقت تک اسے کس طرح دے دوں۔جب تک کہ وہ اس کی نگرانی کی ذمہ داری نہ لے۔اگر وہ انگوٹھی میرے بچوں کے پاس رہے تو وہ کم سے کم اسے اپنی ملکیت سمجھ کر اس کی حفاظت تو کریں گے۔لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ میں یہ انگوٹھی اپنے بچوں کو نہ دوں۔بلکہ جماعت کو دوں۔اس کے لئے میں نے ایک اور تجویز بھی کی ہے۔کہ اس انگوٹھی کا کاغذ پر عکس لے لیا جائے۔بعد اسے زیادہ تعداد میں چھپوا لیا جائے۔پھر نگینہ والی انگوٹھیاں تیار کی جائیں۔لیکن نگینہ لگانے سے پہلے گڑھے میں اس عکس کو دبا دیا جائے۔اس طرح ان انگوٹھیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی انگوٹھی سے براہ راست تعلق ہو جائے گا۔گویا أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ نگ بھی ہو گا اور وہ عکس بھی نگ کے نیچے دبایا ہوا ہو گا۔پھر اس قسم کی انگوٹھیاں مختلف ممالک میں بھیج دی جائیں۔مثلاً ایک انگوٹھی امریکہ میں رہے ایک انگلینڈ میں رہے۔ایک سوئٹزر لینڈ میں رہے۔اسی طرح ایک ایک انگوٹھی دوسرے ممالک میں بھیج دی جائے۔تا اس طرح ہر ملک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تبرک محفوظ رہے۔پچھلے دنوں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی ایک پران تحریر لی تھی۔میں نے وہ تحریر انڈونیشیا بھیج دی ہے۔تا اس امانت کو وہاں محفوظ رکھا جائے۔اور اس سے وہاں کی جماعت برکت حاصل کرے۔مگر الہام میں کپڑوں کا ذکر ہے۔یعنی خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ الہام فرمایا تھا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے۔اس لئے چاہئے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں کو ایسی جگہوں پر بھجوا دیں۔جہاں کیڑا نہیں لگتا۔تا کہ وہ زیادہ لمبے عرصہ تک محفوظ رہیں۔بہر حال نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ آگے آئیں۔اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اسلام کی خدمت کریں۔تا کہ ان کو بھی یہ دن دیکھنا نصیب ہو کہ ان کے ذریعہ سے ملکوں کے ملک محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں اور اسلام کا جھنڈا وہاں گاڑ دیا جائے اور یہ معمولی بات نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی اور بڑی خوشی کی بات ہے۔الفضل 8 فروری 1956ء جلد 45/10 نمبر 33 صفحہ 5)