تذکار مہدی — Page 495
تذکار مهدی ) 495 روایات سید نا محمودی کے پاس سے گزر کر بڑی مسجد میں چلے جاتے ہیں کیونکہ وہاں کسی قدر جلدی نماز ہو جاتی ہے ہم دوسری یا تیسری رکعت میں ہوتے ہیں کہ مدرسہ احمدیہ کے طالب علم نماز پڑھ کر واپس آ رہے ہوتے ہیں جن کے شور سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اب واپس آ رہے ہیں کیونکہ وہ آتے ہوئے اس طرح شور مچاتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بھیڑوں کا گلہ آ رہا ہے ان کے آنے کے وقت ہم دوسری یا تیسری رکعت پڑھ رہے ہوتے ہیں جس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کوئی پندرہ بیس منٹ کا آگا پیچھا ہوتا ہے اس پندرہ بیس منٹ کے عرصہ کے لئے مسجد مبارک کے پاس سے گزر کر دوسری مسجد میں جانا کہاں تک ان کی روحانیت پر دلالت کرتا ہے۔پس جو پندرہ بیس منٹ کے لئے مسجد مبارک کو چھوڑ کر جوان کے قریب بھی ہے۔دوسری مسجد میں جاتے ہیں انہیں بھی اپنی روحانیت کی فکر کرنی چاہئے۔ایسا شخص جو مسجد مبارک کو اس خیال سے چھوڑ کر کہ اس میں ذرا دیر سے نماز ہوتی ہے دوسری مسجد میں اس لئے جاتا ہے کہ اس میں نماز ذرا جلدی ہو جاتی ہے اسے اگر یہ معلوم ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مسجد کے متعلق کیا الہام ہیں اور کیسے کیسے وعدے خدا تعالیٰ کے اس کے متعلق ہیں تو وہ کبھی کسی دوسری مسجد میں جانے کا نام نہ لیتا خواہ نماز کی انتظار میں اسے آدھی رات ہی کیوں نہ ہو جاتی۔پس اگر وہ حضرت مسیح موعود سے بھی ایمان رکھتا ہے کہ خدا کے وعدے بچے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہے کہ خدا کے وعدے بچے ہیں اور حضرت مسیح موعود سے بھی اس نے مسجد مبارک کے متعلق بعض وعدے کئے ہیں تو خواہ لنگڑا بھی ہوتا تو بھی تھا اور لنجا بھی وہ ہوتا تو بھی پہنچتا اور ہرگز یہ بات گوارہ نہ کرتا کہ وہ اس مسجد کو چھوڑ کر کسی اور مسجد میں جا کر نماز پڑھے۔(خطبات محمود جلد 9 صفحہ 346) ہندو ڈپٹی خدا تعالیٰ کے مامور لوگوں کو سبق سکھانے کے لئے دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں۔اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام سے یہ ملتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں دنیا میں جو بھی مصلح آتا ہے۔وہ کسی اچھی قوم سے آتا ہے تا کہ لوگ اس سے نفرت نہ کریں اور جب خدا تعالیٰ نے ہر مصلح کے لئے اچھی قوم میں سے ہونے کی شرط رکھی ہے۔تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے کئی کئی ناک ہوں۔کئی کئی ہاتھ ہوں۔یا کئی کئی سر اور کئی کئی آنکھیں ہوں۔اس سے تو لوگ ڈر جائیں گے اور ایسے مصلح کو دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے۔اس سے فائدہ کیا اٹھا ئیں گے۔اگر