تذکار مہدی — Page 480
تذکار مهدی ) 480 روایات سید نا محمودی لالچ کا نتیجہ تھے۔تو بعض لوگوں کو اپنے دماغی خیالات کے زیر اثر ایسے الہام بھی ہو جاتے ہیں جن کی بناء پر وہ ایسے دعوے کر دیتے ہیں اور بعض جھوٹ بولتے ہیں مگر یہ ہوتا اُسی وقت ہے جب وہ سلسلہ کی کامیابی کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ایک کامیابی کا آسان راستہ ہے۔خطبات محمود جلد 22 صفحہ 296 تا 299 ) | ایک عرب کی قادیان آمد دلوں کا کھولنا کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے دلوں کو خدا ہی کھول سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک عرب آیا یہ لوگ چونکہ عام طور پر سوالی ہوتے ہیں وہ جب کچھ دنوں کے بعد یہاں سے جانے لگا تو حضرت مسیح موعود نے کرایہ کے طور پر اسے کچھ دیا مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا میں نے سنا تھا آپ نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس لئے آیا تھا کچھ لینے کے لئے نہ آیا تھا۔چونکہ یہ ایک نئی بات تھی کیونکہ اس علاقہ کا شاید اب تک کوئی ایسا شخص نہیں آیا جو سوالی نہ ہو اس بات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا آپ کچھ دن اور ٹھہر جائیں وہ ٹھہر گیا اور بعض دوستوں کو آپ نے مقرر کیا کہ اسے تبلیغ کریں۔کئی دن تک اس سے گفتگو ہوتی رہی مگر اسے کوئی اثر نہ ہوا آخر تبلیغ کرنے والے دوستوں نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا یہ بڑا جوشیلا ہے سوالی لوگوں کی طرح نہیں اسے صداقت کی طلب معلوم ہوتی ہے اس کے لئے دعا کی جائے۔آپ نے دعا کی اور آپ کو بتایا گیا اسے ہدایت نصیب ہو جائے گی۔خدا کی قدرت اسی رات کسی بات سے ایسا اثر ہوا کہ صبح اس نے بیعت کر لی اور پھر چلا گیا۔حج کے موقعہ پر مجھے بتایا گیا کہ کئی قافلوں کو اس نے تبلیغ کی ایک قافلہ والے اسے مار مار کر بے ہوش کر دیتے تو ہوش آنے پر اٹھ کر دوسرے قافلہ کے پاس چلا جاتا اور تبلیغ کرتا۔تو بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی جب سینے کھولے تو کھلتے ہیں۔ہماری ترقی کام کے مقابلہ میں بہت محدود ہے اور اس وقت تک محدود ہی رہے گی۔جب تک ہم میں سے ہر ایک کو تبلیغ کے لئے وہ جنون نہیں پیدا ہو جاتا جس سے دنیا کا فتح ہونا وابستہ ہے ایک آگ لگی ہونی چاہئے اور لوگوں کے ہدایات پا جانے کے متعلق تڑپ ہونی چاہئے۔جس سے وہ محسوس کریں کہ ہمارے دلوں میں ان کے لئے درد ہے۔(خطبات محمود جلد 11 صفحہ 457)