تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 862

تذکار مہدی — Page 461

تذکار مهدی ) 6461 روایات سید نا محمود کے لئے دین کا کام کرنا ضروری ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔ان کے اپنے نفس کو اس دکھ اور تکلیف سے بچانے کے لئے ( جو ضمیر کی لعنت و ملامت سے ہوتی ہے ) یہ بہانہ تراش کر پیش کر دیتے ہیں کہ ہم چندے زیادہ دے رہے ہیں اور یہی دین کی خدمت ہے۔چونکہ اس قسم کے لوگ دوسرے آدمیوں میں اپنی عزت قائم رکھنا چاہتے ہیں اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جماعت کا صحیح اور کارآمد عضو ہیں اس لئے وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم زیادہ روپیہ کما کر زیادہ چندہ دیتے ہیں۔حالانکہ دین کی خدمت کے لئے صرف دفتر کا وقت ہی ضروری نہیں۔حضرت حکیم محمد حسین قریشی صاحب کی خدمات خطبات محمود جلد 28 صفحہ 553-552 ) | قریشی صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی صحابہ میں سے تھے اور ایسے مخلص تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ابتلاء سے انہیں بچا لیا جب پہلے پہل خلافت کا جھگڑا اٹھا تو خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے لاہور کی جماعت کو جمع کیا اور کہا کہ دیکھو سلسلہ کس طرح تباہ ہونے لگا ہے۔یہ حضرت خلیفہ اُسیح الاوّل کی خلافت کا زمانہ تھا جب میر محمد الحق صاحب نے بعض سوالات لکھ کر دیئے تھے اور آپ نے جواب کے لئے وہ باہر کی جماعتوں کو بھجوا دیئے تھے اس وقت لاہور کی ساری کی ساری جماعت اس پر متفق ہوگئی تھی کہ دستخط کر کے حضرت خلیفہ اول کو بھجوائے جائیں کہ خلافت کا یہ طریق احمد یہ جماعت میں نہیں بلکہ اصل ذمہ دار جماعت کی انجمن ہے۔جب سب لوگ اس امر کی تصدیق کر رہے تھے۔قریشی صاحب خاموش بیٹھے رہے۔اور کہا کہ میں سب سے آخر میں اپنی رائے بتاؤں گا۔آخر پر ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بڑے زور سے اس خیال کی تردید کی اور کہا کہ یہ گستاخی ہے کہ ہم خلیفہ کے اختیارات معین کریں۔ہم نے ان کی بیعت کی ہے اس لئے ایسی باتیں جائز نہیں وہ آخری آدمی تھے۔ان سے پہلے سب اپنی اپنی رائے ظاہر کر چکے تھے مگر ان کے اخلاص کا نتیجہ تھا کہ سب لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور خواجہ صاحب کے مؤید صرف وہ لوگ رہ گئے جو ان کے ساتھ خاص تعلقات رکھتے تھے۔اسی طرح میری خلافت کے ابتدائی ایام میں بھی غیر مبائعین سے مقابلہ کرنے میں انہوں نے تندہی سے حصہ لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انہی کی معرفت لاہور سے سامان وغیرہ منگوایا کرتے تھے۔حضور خط لکھ کر کسی آدمی کو دے دیتے جو اسے حکیم صاحب کے