تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 862

تذکار مہدی — Page 462

تذکار مهدی ) 462 روایات سید نامحمود پاس لے جاتا اور وہ سب اشیاء خرید کر دیتے گویا وہ لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایجنٹ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ان سے بہت محبت رکھتے تھے۔لاہور کی احمدیہ مسجد بھی انہی کا کارنامہ ہے دوسروں کا تو کیا کہنا میں خود بھی اس کا مخالف تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ یہ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ جو لاہور کی جماعت سے اٹھایا نہ جاسکے گا۔مگر انہوں نے پیچھے پڑ کر مجھے سے اجازت لی اور ایک بھاری رقم کے خرچ سے لاہور میں ایک مرکزی مسجد بنادی۔خطبات محمود جلد سوم صفحہ 166-165) حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کی بیعت پر خوشی کا اظہار اس وقت میں مرزا عزیز احمد صاحب کے نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہو ا ہوں جو کہ نصیرہ بیگم بنت میر محمد الحق صاحب سے قرار پایا ہے۔مرزا عزیز احمد صاحب کو پچھلے عرصہ میں قادیان کم آتے رہے ہیں اور جب آتے بھی ہیں تو بہت کم لوگوں سے ملتے ہیں یہ نہیں کہ مجھ سے نہیں ملتے بلکہ باقی جماعت کے لوگوں سے سوائے چند اپنے احباب سے کم ملتے ہیں مگر ساری جماعت کے لوگ ان سے واقف ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے ہیں اور انہیں ایک فوقیت حاصل ہے اور وہ یہ کہ جب ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب کو سلسلہ کے متعلق اظہار خیال کا موقع نہ ملا تھا اس وقت انہوں نے بیعت کی تھی۔اگر چہ ان کی اس وقت کی بیعت میں اساتذہ کا بہت کچھ دخل تھا اور خود میرا بھی دخل تھا۔میرے ذریعہ ہی ان کی بیعت کا پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بھیجا گیا تھا اور مجھے خوب یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ان کی بیعت کے متعلق سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی والدہ سے بہت محبت تھی۔جب خاندان میں بہت مخالفت تھی اور آنا جانا بھی بند تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے۔عزیز احمد کی والدہ کئی بار آتی جاتی ہیں اور روتی رہتی ہیں کہ لوگوں نے خاندان میں یہاں تک تفرقہ ڈال دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے مل بھی نہیں سکتے۔دوسرا خاندان میر صاحب کا ہے جن سے ساری قادیان واقف ہے۔واقف تو مرزا عزیز احمد صاحب سے بھی ہے مگر میں نے اس لئے ذکر کیا ہے کہ وہ اس نقص کی اصلاح کر لیں۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست اس نکاح کے بابرکت ہونے کے لئے دعا کریں گے۔