تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 862

تذکار مہدی — Page 450

تذکار مهدی ) ہفتہ کے تمام دن با برکت ہیں 450 روایات سید نا محمود فلاں دن منحوس ہے اور فلاں دن غیر منحوس ہے۔یہ تو بڑی خرابی پیدا کرنے والا ہے اس پر انہوں نے کہا کہ آپ ہی نے تو کسی تقریب میں کہا تھا کہ منگل کے دن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شائد کوئی الہام ہوا تھا۔یا کوئی اور وجہ تھی کہ آپ اسے ناپسند فرمایا کرتے تھے۔میں نے کہا میں نے تو صرف ایک روایت کی تشریح کی تھی۔یہ تو نہیں کہا تھا کہ منگل کا دن منحوس ہے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ایک ایسی روایت منسوب کی جاتی ہے۔اس لئے میں نے بتایا تھا کہ اگر اس روایت کو درست تسلیم کیا جائے تو شائد منگل کے دن سے آپ کو اس لئے تخویف کرائی گئی ہو کہ آپ کی وفات منگل کے دن ہونے والی تھی۔مگر بعض لوگوں نے اس مخصوص بات کو جو محض آپ کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی وسیع کر کے اسے ایک قانون بنا لیا اور منگل کی نحوست کے قائل ہو گئے حالانکہ جو چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو اس کو منحوس قرار دینا یہ بڑی بھاری نادانی ہوتی ہے۔اگر منگل کا دن منحوس ہوتا تو خدا تعالیٰ کو بتانا چاہیے تھا کہ اور تو سب دنوں میں میری صفات کام کرتی ہیں لیکن منگل کا دن چونکہ منحوس ہے اس لیے اس میں میری صفات کام نہیں کرتیں اور اگر خدا تعالیٰ نے کسی دن کی نحوست محسوس نہیں کی تو ہم یہ کریں، یہ ایسی باتیں ہیں جن سے و ہم بڑھتا ہے اور زندہ قوموں کے افراد کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے وہموں میں مبتلا ہونے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ان وہموں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس کسی کو کوئی خاص نقصان کسی دن میں پہنچ جاتا ہے وہ اُس دن کو منحوس قرار دینے لگ جاتا ہے۔فرض کرو کسی کو پیر کے دن کوئی شدید نقصان پہنچا ہے تو وہ کہنا شروع کر دے گا کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ پیر کا دن منحوس ہوتا ہے کسی کو ہفتہ کے دن کوئی حادثہ پیش آیا تو وہ کہنا شروع کر دے گا کہ ہفتہ کا دن منحوس ہوتا ہے مثلاً کوئی حکومت ہفتہ کے دن شکست کھا جاتی ہے تو اُس کے افراد کے ذہنوں پر یہ بات غالب آجائے گی کہ ہفتہ کا دن منحوس ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دیکھتے نہیں ! ہم پر ہفتہ کے دن کیسی تباہی آئی تھی !! اِسی طرح ہو سکتا ہے کہ کسی کو جمعرات کے دن کوئی حادثہ پیش آجائے تو وہ جمعرات کو اور کسی کو جمعہ کے دن کوئی حادثہ پیش آجائے تو وہ جمعہ کو منحوس کہنے لگ جائے۔نتیجہ یہ ہو گا کہ سارے لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے اور کہیں گے کہ ہم کیا کریں گے ہمارا تو