تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 862

تذکار مہدی — Page 448

تذکار مهدی ) 6448 روایات سید نا محمود کہ وہ اہلحدیث رہ چکے تھے کیونکہ ان کے خیالات میں بہت زیادہ سختی پائی جاتی تھی۔وہ ایک دفعہ جلسہ پر آئے ہوئے تھے اور قادیان سے واپس جا رہے تھے کہ راستہ میں خدا تعالیٰ کی خشیت کی باتیں شروع ہو گئیں۔کسی شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی شان تو بہت بڑی ہے۔ہم لوگ تو بالکل ذلیل اور حقیر ہیں پتہ نہیں کہ خدا ہماری نماز بھی قبول کرتا ہے یا نہیں، ہمارے روز بے بھی قبول کرتا ہے یا نہیں ، ہماری زکوۃ اور حج بھی قبول کرتا ہے یا نہیں۔اس پر ایک دوسرا شخص بولا کہ اللہ تعالیٰ کی بڑی شان ہے۔میں تو کئی دفعہ سوچتا ہوں کہ میں مومن بھی ہوں یا نہیں۔حافظ محمد صاحب ایک کو نہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ یہ باتیں سنتے ہی اس شخص سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟ کیا یہ سمجھتے ہو کہ تم مومن ہو یا نہیں ؟ اس نے کہا میں تو ! یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں۔حافظ محمد صاحب کہنے لگے اچھا اگر یہ بات ہے تو آج سے میں نے تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھنی۔باقیوں نے کہا حافظ صاحب ! اس کی بات ٹھیک ہے۔ایمان کا مقام تو بہت ہی بلند ہے۔کہنے لگے اچھا پھر تم سب کے پیچھے نماز بند۔جب تم اپنے آپ کو مومن ہی نہیں سمجھتے تو تمہارے پیچھے نماز کس طرح ہوسکتی ہے۔غرض دوست پشاور پہنچے اور حافظ صاحب نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی چھوڑ دی۔جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ تم تو اپنے آپ کو مومن ہی نہیں سمجھتے۔میں تمہارے پیچھے نماز کس طرح پڑھوں۔آخر جب فساد بڑھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔حافظ صاحب ٹھیک کہتے ہیں۔مگر یہ ان کی غلطی تھی کہ انہوں نے ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی ہی چھوڑ دی کیونکہ انہوں نے کفر نہیں کیا تھا لیکن بات ٹھیک ہے۔ہماری جماعت کے دوستوں کا فرض تھا کہ وہ اپنے آپ پر حسن ظنی کرتے۔جہاں تک کوشش کا سوال ہے انسان کو فرض ہے کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھے اور نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرے مگر یہ کہ مومن ہونے سے ہی انکار کر دے یہ غلط طریق ہے۔پس مسئلہ اُن کا ٹھیک ہے لیکن فعل ان کا غلط ہے۔انہیں اپنے دوستوں کے پیچھے نماز نہیں چھوڑنی چاہیے تھی۔صوفیاء نے بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیدہ و دانستہ جانتے بوجھتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ میں اپنے نفس کو ٹولتا ہوں تو مجھے نظر نہیں آتا کہ اُس میں ایمان پایا جاتا ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔تعلق باللہ، انوار العلوم جلد 23 صفحہ 145-144)