تذکار مہدی — Page 447
تذکار مهدی ) 447 تم کسی کے بن جاؤ یا کوئی تمہارا بن جائے روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر کسی صوفی کا یہ قول پنجابی میں بیان فرمایا کرتے تھے کہ یا تو کسی کے دامن سے چمٹ جایا کوئی دامن تجھے ڈھانپ لے۔یعنی اس دنیا کی زندگی ایسی طرز پر ہے کہ اس میں سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں کہ یا تو تم کسی کے بن جاؤ یا کوئی تمہارا بن جائے اور یہی طین سے پیدا کرنے کا مفہوم ہے۔یعنی انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ یا تو وہ کسی کا ہو کر رہنا چاہتا ہے یا کسی کو اپنا بنا کر رکھنا چاہتا ہے دیکھ لو بچہ ابھی پوری طرح ہوش بھی نہیں سنبھالتا کہ کسی کے ہو جانے کا شوق اس کے دل میں گدگدیاں پیدا کرنے لگتا ہے۔بلوغت تو کئی سالوں کے بعد آتی ہے۔لیکن چھوٹی عمر میں ہی لڑکیوں کو دیکھ لو وہ کھیلتی ہیں تو کہتی ہیں کہ یہ میرا گڑا ہے اور وہ تیری گڑیا ہے۔آؤ ہم گڑے گڑیا کا بیاہ رچائیں۔میرے گڑے کے ساتھ تیری گڑیا کی شادی ہو گی اور فلاں کے گڑے کی شادی کرتی ہیں اور بڑی خوشی مناتی ہیں کہ ہمارے گڑے کی شادی ہو گئی یا ہماری گڑیا کا فلاں کے گڈے سے بیاہ ہو گیا۔پھر وہ ماؤں کی نقلیں کر کے گڑیوں کو اپنی گود میں اٹھائے پھرتی ہیں۔انہیں پیار کرتی ہیں اور جس طرح مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں۔اسی طرح وہ ان کو اپنے سینے سے لگائے رکھتی ہیں کیونکہ ان کا دل چاہتا ہے کہ ہم کسی کی ہو جائیں۔یا کوئی ہمارا ہو جائے۔اسی طرح لڑکوں کو دیکھ لو جب تک بیاہ نہیں ہو جاتا ہر وقت ماں کے ساتھ چھٹے رہتے ہیں۔لیکن جب بیاہ ہو جائے تو کہتے ہیں ماں تو جائے چولہے میں ہماری بیوی جو ہے وہ ایسی ہے اور ایسی ہے اور دن رات اس کی تعریفوں میں گذر جاتے ہیں۔تو اللہ اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (العلق : 3) انسان کی فطرت میں ہم نے یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ کسی نہ کسی کا ہوکر رہنا چاہتا ہے۔اس کے بغیر اُس کے دل کو تسلی نہیں ہوتی۔حافظ یار محمد صاحب پشاوری تعلق باللہ، انوار العلوم جلد 23 صفحہ 136 137 ) مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص حافظ محمد صاحب پشاور کے رہنے والے تھے۔قرآن کریم کے حافظ تھے اور سخت جو شیلے احمدی تھے میرا خیال ہے