تذکار مہدی — Page 435
تذکار مهدی ) 435 روایات سید نا محمود اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے لڑکے کو ایسا نیک کیا کہ اس نے دین کے لئے شاندار قربانیاں کیں۔ایک جنگ کے موقع پر مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا۔عیسائی تیرانداز تاک تاک کر مسلمانوں کی آنکھوں میں تیر مارتے تھے اور صحابہ شہید ہوتے جاتے تھے عکرمہ نے کہا مجھ سے یہ نہیں دیکھا جاتا اور اپنی فوج کے افسر سے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ان پر حملہ کروں اور ساٹھ بہادروں کو ساتھ لے کر دشمن کے لشکر کے قلب پر حملہ کر دیا۔اور ایسا شدید حملہ کیا کہ اُس کے کمانڈرکو جان بچانے کے لئے بھاگنا پڑا جس سے دشمن کے لشکر میں بھی بھگدڑ بچ گئی۔یہ جانباز ایسی بہادری سے لڑے کہ جب اسلامی لشکر وہاں پہنچا تو تمام کے تمام یا تو شہید ہو چکے تھے یا سخت زخمی پڑے تھے۔حضرت عکرمہ بھی سخت زخمی تھے۔ایک افسر پانی لے کر زخمیوں کے پاس آیا اور اُس نے پہلے عکرمہ کو پانی دینا چاہا مگر آپ نے دیکھا کہ حضرت سہیل بن عمر پانی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔آپ نے اُس افسر سے کہا کہ پہلے سہیل کو پانی پلاؤ پھر میں پیوں گا۔میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میرا بھائی پیاس کی حالت میں پاس پڑا ر ہے اور میں پانی پی لوں۔وہ سہیل کے پاس پانی لے کر پہنچا تو اُن کے پاس حارث بن ہشام زخمی پڑے تھے۔سہیل نے کہا پہلے حارث کو پلاؤ۔وہ حارث کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکے تھے۔پھر وہ واپس سمیل کے پاس آیا تو وہ بھی وفات پاچکے تھے اور جب وہ مکرمہ کے پاس پہنچا تو ان کی روح بھی پرواز کر چکی تھی۔تو یہ مکرمہ ابو جہل کے لڑکے تھے۔پس اگر کوئی شخص شریر ہو، بے دین اور جھوٹا ہو تو کون کہہ سکتا ہے کہ اُس کا بیٹا بھی ضرور اُس جیسا ہو گا۔مگر خدا تعالیٰ کے کلام میں ایسی شہادتیں ہوتی ہیں جو اس کی صداقت کو واضح کر دیتی ہیں اور جس میں شہادت نہ ہو وہ ماننے کے قابل ہی نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی میں بھی دوسری پیشگوئیوں کی طرح بہت سی شہادتیں موجود ہیں۔آپ نے ایسے وقت میں جب قادیان کے لوگ بھی آپ کو نہ جانتے تھے یہ پیشگوئی فرمائی۔قادیان کے کئی بوڑھے لوگوں نے سُنایا ہے کہ ہم آپ کو جانتے ہی نہ تھے۔ہم سمجھا کرتے تھے کہ غلام مرتضی صاحب کا ایک ہی لڑکا مرزا غلام قادر ہے۔تو ایسا شخص جو خود گمنام ہو جسے اُس کے گاؤں کے لوگ بھی نہ جانتے ہوں یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے اولاد دے گا جو زندہ بھی رہے گی اور اُس کے لڑکوں میں سے ایک لڑکا ایسا ہو گا جو دنیا کے