تذکار مہدی — Page 431
تذکار مهدی ) 431 روایات سید نا محمود ہے کہ جب میاں بیوی آپس میں ملیں اور حقیقی صورت میں میاں بیوی کے تعلقات قائم ہو جائیں تو ولیمہ ہو۔تا معلوم ہو جائے کہ بیوی پورے مہر کی حقدار ہو گئی ہے۔چونکہ ایسی بات کا اعلان اور الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا اس لئے شریعت نے اس کے لئے ولیمہ کا طریق مقرر کر دیا ہے تا آئندہ جھگڑا وغیرہ اگر کوئی پیدا ہو تو فیصلہ میں آسانی رہے۔غرض اس وقت تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گو ولیمہ کی دعوت کی گئی مگر در حقیقت ایسا فعل ہوا ہی نہ تھا اور لڑکے والوں نے شرم کے مارے ولیمہ کر دیا اور چونکہ ایسی دعوت ولیمہ شریعت کے منشاء کے خلاف تھی اللہ تعالیٰ نے البا ما آپ کو اس سے روک دیا کیونکہ ایک اعلیٰ درجہ کے متقی انسان کے لئے تھوڑی سی بری بات بھی بڑی ہوتی ہے۔اس لئے الہام میں آپ کے لئے اس کھانے کو سؤ رکہا گیا۔تو اللہ تعالیٰ نے جہاں دخل دینا ہوتا ہے وہاں دے دیتا ہے۔(الفضل 17 جولائی 1942 ء جلد 30 نمبر 164 صفحہ 4-3 ) | حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی اور مہاراجہ جموں آپ ( حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی) بہت بڑے بزرگ تھے اور اپنے زمانہ کے نیک لوگوں میں سے تھے۔ایک دفعہ مہا راجہ جموں نے ان کو دعوت دی کہ آپ جموں آکر میرے لئے دعا کریں مگر آپ نے انکار کر دیا اور کہہ دیا۔اگر آپ دعا کرانا چاہتے ہیں تو یہاں آ کر کرائیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی برکت اور فیض سے ان کے سارے خاندان کو اور ان کے بہت سے مریدوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی توفیق دی۔شہزادہ عبدالمجید صاحب ( مبلغ ایران) بھی ان کے مریدوں میں سے تھے۔جو افغانستان کے شاہی خاندان سے تھے اور شاہ شجاع کی نسل سے تھے۔تم مسیحا بنو خدا کے لئے الفضل مورخہ 30-27 مارچ 1928 ء جلد 15 نمبر 76-77 صفحہ 9 انسان کی طبیعت پر بیسیوں واقعات اکثر چھوڑ جاتے ہیں اور بعض اثرات نہایت گہرے اور تکلیف دہ ہوتے ہیں جو واقعہ کی شدت سے کم تکلیف دہ نہیں ہوتے۔خصوصاً ان واقعات کے متعلق جو اہم نظر آتے ہیں یا جن میں تباہی بالکل قریب دکھائی دیتی ہو لیکن اللہ تعالیٰ