تذکار مہدی — Page 4
تذکار مهدی ) 4 روایات سید نا محمود مشکل ہو جائے گا۔اس لئے جہاں تک ہو سکے بہت جلد اس کام کو پورا کرنا چاہئے۔“ برکات خلافت۔انوار العلوم جلد دوم صفحہ 226-225 ) محترم مہاشہ فضل حسین صاحب، جن کے سپرد یہ کام ابتداء میں ہوا، تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق روایات جمع کرنے کا کام کئی سال سے حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت نظارت تالیف و تصنیف قادیان کے زیر اہتمام ہو رہا ہے۔کچھ مدت گزری کہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ناظر تالیف و تصنیف کے ارشاد پر جب میں نے اس کام کا چارج لیا۔میں نے رجسٹر ہذا کو کھولا۔تو سب سے پہلے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا نام نامی نظر آیا کہ جن سے ابھی تک کوئی روایات دفتر حاصل نہیں کر سکا۔ایک تجویز ذہن میں آئی اور بندہ اسی وقت اپنے مخدوم ومحسن حضرت صاحبزادہ میرزا شریف احمد صاحب ناظر تالیف و تصنیف کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ خاکسار کو چارج میں یہ رجسٹر بھی ملا ہے اور اس کے ساتھ ہی مجھے کہا گیا ہے کہ اس میں جن ناموں کے آگے خانے خالی ہیں۔ان سے روایات کے لئے درخواست کروں۔مگر اس میں سب سے اوّل حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا ہی اسم گرامی لکھا ہے۔چونکہ حضور کی روایات کا حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔اس لئے میرے ذہن میں ایک تجویز آئی ہے۔اگر آنمخدوم پسند کریں اور منظوری عطا فرمائیں۔تو رجسٹر ہذا کا خانہ اول پر ہو سکتا ہے۔اور وہ تجویز یہ ہے کہ چونکہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ابتداء زمانہ خلافت سے اپنے خطبوں ، لیکچروں ، تقریروں اور زبانی گفتگوؤں میں اور بعض کتابوں میں مختلف امور اور مسائل پر اظہار خیالات فرماتے ہوئے ضمنا۔۔زمانہ حضرت اقدس کے متعلق بہت سے واقعات بیان فرماتے رہے ہیں۔اگر وہ جمع کر لئے جائیں۔تو اس طرح ایک اچھا خاصہ ذخیرہ روایات جمع ہو سکتا ہے۔ایک نادر اور وقیع ذخیرہ جمع ہو جائے گا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف نے خاکسار کی اس تجویز کو پسند فرماتے ہوئے منظوری دے دی۔“ الحکم سیرت مسیح موعود نمبر مورخہ 28/21 مئی و 14/7 جون 1943ء صفحہ 3-2 جلد 47 نمبر 19 تا22)