تذکار مہدی — Page 403
تذکار مهدی ) 6 403 روایات سید نا محمود جہاں پہنچ کر جماعت کام نہیں کرسکتی باقی اصل کام جماعت کو خود کرنا ہے۔قرآن اور حدیث سے کہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ کسی نبی نے مزدوروں کے ذریعہ فتح حاصل کی ہو۔کوئی نبی ایسا نہ تھا جس نے مبلغ اور مدرس نوکر رکھے ہوئے ہوں۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ ایک بھی مبلغ نوکر نہ تھا اب تو جماعت کے پھیلنے کی وجہ سے سہارے کے لیے بعض مبلغ رکھ لئے گئے ہیں۔جیسے پہاڑوں پر لوگ عمارت بناتے ہیں تو اس میں سہارے کے لیے لکڑی دے دیتے ہیں تا لچک پیدا ہو جائے اور زلزلہ کے اثرات سے محفوظ رہے۔پس ہمارا مبلغین کو ملازم رکھنا بھی لچک پیدا کرنے کے لیے ہے وگرنہ جب تک افراد جماعت تبلیغ نہ کریں، جب تک وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے اوقات دین کے لیے وقف ہیں، جب تک جماعت کا ہر فر دسر کو ہتھیلی پر رکھ کر دین کے لیے میدان میں نہ آئے اس وقت تک کامیابی نہیں ہوسکتی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے علیحدہ کیا ہے تو اس کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اس کے بھائیوں کی تلوار اس کے خلاف اُٹھے گی اور اس کی تلوار ان کے خلاف۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی ہوگا کیونکہ نبی کے خلاف ہی ساری دنیا کی تلوار میں اٹھتی ہیں۔پس جب تک کوئی شخص ساری دنیا کی تلواروں کے سامنے اپنا سر نہیں رکھ دیتا اس وقت تک اس کا یہ خیال کرنا کہ وہ اس مامور کی بیعت میں شامل ہے فریب اور دھوکا ہے جو وہ اپنی جان کو بھی اور دنیا کو بھی دے رہا ہے۔ہماری جماعت کے زمیندار اور ملازم اور تاجر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہوئے اور چند مبلغ ملازم رکھ کر کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ وہ خدا کی جماعت ہیں حالانکہ یہ حالت خدا کی جماعتوں والی نہیں اس صورت میں ہم زیادہ سے زیادہ ایک انجمن کہلا سکتے ہیں۔خدائی جماعت وہی ہے جس کا ہر فرد اپنے آپ کو قربانی کا بکرا بنا دیاور جس کا ہر ممبر موت قبول کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔یاد رکھو جو جماعت مرنے کے لئے تیار ہو جائے اسے کوئی نہیں مارسکتا اور نہ اس کے مقابلہ پر کوئی ٹھہر سکتا ہے۔( خطبات محمود جلد 16 صفحہ 6) حضرت مولانا احسن امروہی صاحب اور پیغامی میرے زمانہ خلافت میں جب پیغامی مولوی محمد احسن صاحب کو ورغلا کر لاہور لے گئے اور انہوں نے کہا میں نے ہی انہیں خلیفہ بنایا تھا اور اب میں ہی انہیں معزول کرتا ہوں تو اس کی وجہ سے جماعت میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔