تذکار مہدی — Page 391
تذکار مهدی ) 391 روایات سید نا محمود )۔انگریزی پارہ کی اشاعت کا سوال پیدا ہوا اس پارہ کے لئے میں اردو میں مضمون لکھتا تھا اور ماسٹر عبدالحق صاحب مرحوم اس کا انگریزی میں ترجمہ کرتے جاتے تھے وہ اتنا اعلیٰ ترجمہ کرنے والے تھے کہ آج تک یورپ سے خطوط آتے رہتے ہیں کہ آپ کے پہلے پارہ کی زبان نہایت شاندار ہے اور پھر وہ اتنی جلدی ترجمہ کرتے تھے کہ میں پیچھے رہ جاتا اور وہ مضمون کا ترجمہ کر کے لے آتے حالانکہ میں خود اتنا زود نویس تھا کہ بعض دفعہ ایک ایک دن میں پوری کتاب لکھ دیتا تھا ان دنوں مسجد مبارک کے نچلے کمرہ میں بیٹھ کر میں کام کیا کرتا تھا۔ایک دن میں بیٹھا مضمون لکھ رہا تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔میں نے پوچھا تو پتہ لگا کہ ماسٹر عبدالحق صاحب آئے ہیں۔میں نے کہا آپ کس طرح آئے ہیں کہنے لگے مضمون دیجئے۔میں نے کہا ابھی تھوڑی دیر ہوئی میں آپ کو مضمون بھجوا چکا ہوں کہنے لگے اس کا ترجمہ تو میں ختم بھی کر چکا ہوں اب مجھے آگے مضمون دیجئے۔میں نے کہا میرے پاس تو ابھی مضمون تیار نہیں کہنے لگے خیر میں اپنا کام ختم کر چکا ہوں آپ مضمون لکھ لیں تو مجھے بھجوا دیں۔بہر حال جب مضمون تیار ہو گیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ پارہ ہم اپنے خاندان کی طرف سے چھپوا دیں۔مگر اس کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی ہمارا اندازہ یہ تھا کہ اس کے لئے چار ہزار روپیہ کی ضرورت ہوگی۔آخر سوچ کر میں نے یہ تجویز نکالی کہ ہم اپنی جائیداد کا کچھ حصہ بیچ دیتے ہیں۔اس ذریعہ سے جو آمد ہو گی وہ قرآن کریم کے چھپوانے پر خرچ کر دی جائے گی۔میں نے اپنے بھائیوں سے مشورہ لیا تو انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے زمین بیچنے کی اجازت ہے۔مگر اب میں ڈروں کہ چار ہزار روپیہ آ بھی سکتا ہے یا نہیں۔میں نے اسی دوست کو بلوایا اور کہا کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ قرآن کریم ہمارے خاندان کے خرچ پر شائع ہو کیا اس کے لئے چار ہزار روپیہ اکٹھا ہوسکتا ہے۔کہنے لگے کہ آپ کہیں تو ہیں ہزار روپیہ بھی اکٹھا ہو سکتا ہے۔میں نے کہا میں ہزار نہیں صرف چار ہزار روپیہ چاہیئے۔جب میں نے یہ بات کہی اس وقت کوئی گیارہ بجے ہوں گے۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ روپیہ کب تک اکٹھا ہوسکتا ہے۔کہنے لگے ظہر تک لا دوں گا۔یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ظہر کی نماز پڑھ کر میں الفضل کے دفتر میں گیا تو انہوں نے چار ہزار روپیہ کی تھیلی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور کہا کہ ابھی اور بہت سے گاہک موجود ہیں۔اگر آپ کہیں تو میں چھپیس ہزار روپیہ بھی آسکتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ دینے پر آتا ہے تو اس طرح دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔پس مت سوچو کہ تمہاری اولادیں کیا کھائیں گی اور کہاں سے ان کے لئے رزق آئے گا۔ہمیں تو یہ فکر رہتی ہے