تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 862

تذکار مہدی — Page 371

تذکار مهدی ) 371 روایات سید نامحمودی كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ ترجمه : " کہ تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہوگئی۔اب تیرے بعد کوئی شخص پڑا مرا کرے ہمیں اس کی پرواہ نہیں کیونکہ ہم تو تیری ہی موت سے ڈر رہے تھے۔“ آج سے تیرہ سو سال کے بعد اس نبی کے ایک غلام کی وفات پر پھر وہی نظارہ چشم فلک نے دیکھا کہ جنہوں نے اسے پہچان لیا تھا ان کا یہ حال تھا کہ یہ دنیا ان کی نظروں میں حقیر ہوگئی اور ان کی تمام تر خوشی اگلے جہان میں ہی چلی گئی بلکہ اب تک کہ آٹھ سال گذر گئے ہیں ان کا یہی حال ہے اور خواہ صدی بھی گذر جائے مگر وہ دن ان کو کبھی نہیں بھول سکتے جبکہ خدا تعالیٰ کا پیارا رسول ان کے درمیان چلتا پھرتا تھا۔اُسی وقت آپ کے جسم مبارک کو قادیان میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا اور شام کی گاڑی میں ایک نہایت بھاری دل کے ساتھ آپ کی جماعت نعش لے کر روانہ ہوئی اور آپ کا الہام پورا ہوا جو قبل از وقت مختلف اخبارات میں شائع ہو چکا تھا کہ ” ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔“ بٹالہ پہنچ کر آپ کا جنازہ فوراً قادیان پہنچایا گیا اور قبل اس کے کہ آپ کو دفن کیا جاتا قادیان کی موجودہ جماعت نے (جن میں کئی سو قائم مقام باہر کی جماعتوں کا بھی شامل تھا) بالا تفاق آپ کا جانشین اور خلیفہ حضرت مولوی حاجی نورالدین صاحب بھیروی کو تسلیم کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اس طرح الوصیت کی وہ شائع شدہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر کھڑے کئے گئے تھے۔میری جماعت کے لئے بھی خدا تعالیٰ اسی رنگ میں انتظام فرمائے گا۔اس کے بعد خلیفہ وقت نے آپ کا جنازہ پڑھا اور دوپہر کے بعد آپ دفن کئے گئے اور اس طرح آپ کا وہ الہام کہ ستائیس کو ایک واقعہ ( ہمارے متعلق ) ”جو دسمبر 1902ء میں ہوا اور مختلف اخبارات میں شائع ہو چکا تھا پورا ہوا کیونکہ 26 مئی کو آپ فوت ہوئے اور 27 تاریخ کو آپ دفن کئے گئے اور اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام بھی تھا جس سے اس الہام کے معنے واضح کر دیئے گئے تھے اور وہ الہام یہ تھا