تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 862

تذکار مہدی — Page 354

تذکار مهدی ) 354 روایات سید نا محمود آٹے کے لئے روپیہ مانگ رہے تھے اور میرے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا اور میں حیران تھا کہ اس کا کیا انتظام ہو گا۔اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک غریب آدمی جس نے میلے سے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔آیا اور اس نے یہ گٹھڑی مجھے دے دی۔میں نے سمجھا کہ اس میں پیسے ہی ہوں گے لیکن اب معلوم ہوا کہ روپے تھے۔اس پر آپ دیر تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے رہے۔کہ اس نے کیا فضل نازل فرمایا ہے۔بیشک اس وقت ہماری نگاہ چار سو روپیہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا لیکن اس وقت ہم ان چیزوں کو دیکھتے تو ہمارا ایمان تازہ ہوتا تھا۔اور اب ہمیں اس سے سینکڑوں گنا زیادہ روپیہ ملتا ہے۔اور وہ روپیہ ہمارے ایمانوں کو بڑھاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے مجھے اپنی عمر میں بعض غیر احمدیوں نے دو دو تین تین چار چار ہزار روپیہ نذرانہ کے طور پر دیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ آپ کو چار سو روپیہ ملا تو آپ نے سمجھا کہ شائد اس میں پیسے ہی ہوں گے۔ورنہ اتنا روپیہ کون دے سکتا ہے آج اگر وہی زمانہ ہوتا تو وہ لوگ جو اس وقت افسوس کر رہے ہیں۔ان کو بھی قربانی کا موقع مل جاتا اور ہر شخص قربانی کر کے سمجھتا کہ مجھے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کا موقعہ عطا فرما کر مجھے پر احسان فرمایا ہے۔لیکن وہ زمانہ تو گزر گیا۔اب پھر ایک دوسرا زمانہ آ گیا ہے۔جس میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے دین کی خدمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر رہا ہے۔بہر حال ہر زمانہ کے لحاظ سے خدا اپنی زندگی کا ثبوت دیتا چلا آیا ہے۔اُس زمانہ میں چار سو روپیہ کا مل جانا خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ایک ثبوت تھا اور اس زمانہ میں کبھی کبھی چالیس پچاس ہزار روپے دے کر اُس نے اپنی زندگی کا ثبوت دیا ہے۔اور آج خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت دواڑھائی سو پونڈ ہیں جو ایک دوست نے اطلاع ملتے ہی لندن بنک میں جمع کروا دیئے۔اسی طرح اس ترکی پروفیسر کا وہ روپیہ بھی زندہ خدا کا ایک نشان ہے جو اُس نے اپنے اوپر خرچ کرنے کی بجائے مجھے دین پر خرچ کرنے کے لیے بھجوا دیا۔اور یا پھر خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت اُس حبشی چیف کا واقعہ ہے جس نے احمدیہ پریس کے لیے ایک ہزار پونڈ دو قسطوں میں دے دیا۔اور یا پھر خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت افریقہ کے اُس دوست کا خط ہے جنہوں نے یہ لکھا کہ آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں