تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 862

تذکار مہدی — Page 308

تذکار مهدی ) + 308 → نا روایات سید نا محمود نے یہ بات سنی تو فوراً حضرت اماں جان سے فرمایا کہ مرغیاں گنوا کر ان بچوں کو قیمت دے دی جائے اور مرغیاں ذبح کر کے کھالی جائیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبارک احمد بہت پیارا تھا۔1907ء میں وہ بیمار ہو گیا اور اس کو شدید قسم کے ٹائیفائیڈ کا حملہ ہوا اس وقت دو ڈاکٹر قادیان میں موجود تھے۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور تھے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ ہمیں باہر نوکری کرنے کے بجائے قادیان میں رہ کر خدمت کرنی چاہئے اور اس رنگ میں شائد وہ پہلے احمدی تھے جو ملا زمت چھوڑ کر یہاں آ گئے تھے۔ایک تو وہ تھے اور دوسرے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب تھے جو رخصت پر یہاں آئے ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ مل کر مبارک احمد مرحوم کا علاج کیا کرتے تھے۔اس کی بیماری کے ایام میں کسی شخص نے خواب دیکھا کہ مبارک احمد کی شادی ہو رہی ہے اور معبرین نے لکھا ہے کہ اگر شادی غیر معلوم عورت سے ہو تو تعبیر موت ہوتی ہے مگر بعض معتبرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسے خواب کو ظاہری صورت میں پورا کر دیا جائے تو بعض دفعہ یہ تعبیر ٹل جاتی ہے۔پس جب خواب دیکھنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا یہ خواب سنایا تو آپ نے فرمایا کہ معتبرین نے لکھا ہے کہ اس کی تعبیر تو موت ہوتی ہے مگر ظاہری رنگ میں پورا کر دینے کی صورت میں بعض دفعہ یہ تعبیر مل جاتی ہے۔اس لئے آؤ۔مبارک احمد کی شادی کریں۔گویا وہ بچہ جسے شادی بیاہ کا کچھ بھی علم نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی شادی کا فکر ہوا۔جس وقت حضور علیہ السلام یہ باتیں کر رہے تھے تو ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے سے جو یہاں بطور مہمان آئے ہوئے تھے صحن میں نظر آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایا اور فرمایا۔ہمارا منشاء ہے کہ مبارک احمد کی شادی کر دیں۔آپ کی لڑکی مریم ہے۔آپ اگر پسند کریں تو اس سے مبارک احمد کی شادی کر دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حضور مجھے کوئی عذر نہیں لیکن اگر حضور کچھ مہلت دیں تو ڈاکٹر صاحب سے بھی پوچھ لوں۔ان دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم اور ان کے اہل و عیال گول کمرہ میں رہتے تھے۔وہ نیچے کئیں اور جیسا کہ بعد کے واقعات معلوم ہوئے۔وہ یہ ہیں کہ ڈاکٹر صاحب شائد وہاں نہ تھے۔کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا تو وہ آگئے۔جب وہ آئے تو انہوں نے اس رنگ میں ان سے بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جب کوئی داخل ہوتا ہے تو بعض دفعہ اس کے ایمان کی آزمائش بھی ہوتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے۔