تذکار مہدی — Page 305
تذکار مهدی ) 305 روایات سید نامحمود کا مظہر بننے کیلئے ضروری ہے کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو اور غرباء کی خدمت پر کمر بستہ رہو۔ہاں جب تم اپنے ہاتھوں سے بھی بنی نوع انسان کی خدمات بجا لاؤ گے تو تم رَبِّ الْعَلَمِینَ کی صفت کے بعد مظہر بن جاؤ گے۔خطبات محمود جلد 18 صفحہ 580-579) حضرت صاحبزادہ میاں مبارک احمد کی بیماری اور وفات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمارے چھوٹے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بہت محبت تھی۔جب وہ بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اتنی محنت اور اتنی توجہ سے اس کا علاج کیا کہ بعض لوگ سمجھتے تھے۔اگر مبارک احمد فوت ہو گیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سخت صدمہ پہنچے گا۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل بڑے حوصلہ والے اور بہادر انسان تھے۔جس روز مبارک احمد مرحوم فوت ہوا۔اس روز صبح کی نماز پڑھ کر آپ مبارک احمد کو دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔میرے سپر د اس وقت مبارک احمد کو دوائیاں دینے اور اس کی نگہداشت وغیرہ کا کام تھا۔میں ہی نماز کے بعد حضرت خلیفہ اول کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔میں تھا حضرت خلیفہ اول تھے۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے اور شائد ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی تھے۔جب حضرت خلیفہ اول مبارک احمد کو دیکھنے کے لئے پہنچے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا حالت اچھی معلوم ہوتی ہے بچہ سو گیا ہے۔مگر در حقیقت وہ آخری وقت تھا۔جب میں حضرت خلیفہ اول کو لے کر آیا اس وقت مبارک احمد کا شمال کی طرف سر اور جنوب کی طرف پاؤں تھے۔حضرت خلیفہ اول بائیں طرف کھڑے ہوئے اور انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھا۔مگر نبض آپ کو محسوس نہ ہوئی اس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ حضور مشک لائیں اور خود ہاتھ کہنی کے قریب رکھ کر نبض محسوس کرنی شروع کی کہ شائد وہاں نبض محسوس ہوتی ہو۔مگر وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو پھر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مخاطب ہوکر کہا کہ حضور جلدی مشک لائیں اور خود بغل کے قریب اپنا ہا تھ لے گئے اور نبض محسوس کرنی شروع کی اور جب وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو گھبرا کر کہا حضور! جلد مُشک لائیں۔اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چابیوں کے گچھے سے کنجی تلاش کر کے ٹرنک کا تالا کھول رہے تھے۔جب آخری دفعہ حضرت مولوی صاحب نے گھبراہٹ سے کہا کہ حضور مشک جلدی