تذکار مہدی — Page 301
تذکار مهدی ) 301 روایات سیّد نا محمود کون ہو کہ بلا اجازت سفارش کرو۔حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جس وقت مجھے یہ الہام ہو ا تو میں گر پڑا اور بدن پر رعشہ شروع ہو گیا قریب تھا کہ میری جان نکل جاتی لیکن جب یہ حالت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا ہم شفاعت کی اجازت دیتے ہیں شفاعت کرو چنانچہ آپ نے شفاعت کی اور عبدالرحیم خان اچھے ہو گئے۔اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کو مل جائے گی ( برکات خلافت، انوار العلوم جلد 3 صفحہ 239 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ کپورتھلہ کے احمدیوں اور غیر احمدیوں کا وہاں کی ایک مسجد کے متعلق مقدمہ ہو گیا۔جس حج کے پاس یہ مقدمہ تھا اس نے مخالفانہ رویہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔اس پر کپورتھلہ کی جماعت نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دعا کے لئے خط لکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں انہیں تحریر فرمایا کہ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کو مل جائے گی۔مگر دوسری طرف حج نے اپنی مخالفت بدستور جاری رکھی اور آخر اس نے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھ دیا مگر دوسرے دن جب وہ فیصلہ سنانے کے لئے عدالت میں جانے کی تیاری کرنے لگا تو اُس نے نوکر سے کہا مجھے بوٹ پہنا دو۔نوکر نے ایک بوٹ پہنایا اور دوسرا ابھی پہنا ہی رہا تھا کہ گھٹ کی آواز آئی۔اُس نے اوپر دیکھا تو جج کا ہارٹ فیل ہو چکا تھا۔اُس کے مرنے کے بعد دوسرے حج کو مقرر کیا گیا اور اُس نے پہلے فیصلہ کو بدل کر ہماری جماعت کے حق میں فیصلہ کر دیا۔جو دوستوں کے لئے ایک بہت بڑا نشان ثابت ہوا اور ان کے ایمان آسمان تک جا پہنچے۔غرض اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے انبیاء کے ذریعہ متواتر غیب کی خبریں دیتا ہے۔جن کے پورا ہونے پر مؤمنوں کے ایمان اور بھی ترقی کر جاتے ہیں۔یہ غیب کی خبروں کا ہی نتیجہ تھا کہ جو لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اُن کے دل اس قدر مضبوط ہو گئے کہ اور لوگ تو موت کو دیکھ کر روتے ہیں مگر صحابہ میں سے کسی کو جب خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کا موقعہ ملتا تو وہ خوشی سے اُچھل پڑتا اور کہتا فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ - رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔آخر یہ روح اُن کے اندر کہاں سے آگئی تھی۔یہ وہی روح تھی جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو غیب کی ย